انڈونیشیا: سیمرو آتش فشاں پہاڑ میں سات دھماکے

مشرقی جاوا کے سیمیرو آتش فشاں پہاڑ میں صرف تین گھنٹوں میں سات دھماکے، حکام نے عوام کو پہاڑ سے دُور رہنے کی ہدایت کی ہے

By
انڈونیشیا کے مشرقی جاوا صوبے کے لوماجنگ میں ماؤنٹ سیمیرو آتش فشاں پھٹ گیا۔ / Reuters

انڈونیشیا کے صوبے مشرقی جاوا میں واقع آتش فشاں پہاڑ 'سیمیرو' میں آج بروز بدھ علی الصبح تین گھنٹوں کے اندر سات دھماکے ہوئے ہیں۔

انڈونیشیا سرکاری خبر ایجنسی 'آنتارا' کے مطابق پہلا دھماکہ صبح 4:58 پر  ہوا اور آتش فشانی دہانے کی اُگلی ہوئی راکھ   800 میٹر  بلندی تک پہنچی ۔ فضاء میں پھیلے ہوئے دھوئیں اور راکھ  کے بادل  شمال مشرق کی طرف اُڑنے لگے۔

آتش فشانی دھماکوں کے  پیدا کردہ زلزلوں کا ارتعاشی طول و عرض 22 ملی میٹر ریکارڈ کیا گیا ہے۔یہ زلزلہ  138 سیکنڈ تک جاری رہا۔

دوسرا دھماکہ  6:10 پراور تیسرا  6:56 پرہوا۔ دھماکوں میں آتش فشانی دہانے کی اُگلی ہوئی راکھ  300 سے 700 میٹر  بلندی تک پہنچی۔ چوتھا دھماکہ  صبح 7:05 پر ہوااور  شمال کی سمت 600 میٹر اونچا  دھوئیں کا ستون بن گیا۔

پانچویں دھماکے کی اُگلی ہوئی راکھ  800 میٹر بلندی تک پہنچی۔ اس کے بعد  مزید دو دھماکے ہوئے ہیں۔

حکام آتش فشاں کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں اور، لاوے کے چوٹی سے 17 کلومیٹر دُور تک پہنچنے کے احتمال کی وجہ سے،  عوام کو دریائے 'بیسوک کوبوکان' کے ساحل سے  500 میٹر دُور رہنے کی تنبیہ کر رہے ہیں ۔

واضح رہے کہ بحرالکاہل  کے 'آتشی حلقے'  پر واقع  ہونے کی وجہ سے انڈونیشیا  میں 120 سے زائد فعال آتش فشاں پہاڑ پائے جاتے ہیں ۔ پہاڑوں میں آتش فشانی حرکت، ملک میں ایک تواتر سے، زلزلوں کا سبب بنتی رہتی ہے۔