حالیہ صورتِ حال میں شدت، جس میں پاکستانی فضائی آپریشن میں جمعہ کی صبح کابل، قندھار اور پکتیا کو نشانہ بنایا اور سرحدی چار گھنٹے کی جھڑپ میں کم از کم آٹھ افغان اور بارہ پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے، اچانک رونما نہیں ہوئی۔
سرحدی پہاڑی علاقے میں برسوں کے اندر کشیدگی میں اضافہ ہوا کیونکہ وہ خطہ جنگجوؤں کی آماجگاہ بنتا گیا اور 2021 کے بعد پاکستان کے اندر حملے تیزی سے بڑھتے گئے۔
اسلام آباد کی نظر میں تبدیلی کا اہم لمحہ اگست 2021 میں افغان طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی تھی، جو دوحہ معاہدے اور امریکی قیادت کی اتحادی افواج کے انخلا کے بعد ہوئی۔
پاکستان نے ابتدا میں طالبان کے بر سرِاقتدار آنے کا خیرمقدم کیا تھا اور اس وقت کے وزیرِ اعظم عمران خان نے عوامی طور پر کہا تھا کہ افغانوں نے "غلامی کی زنجیروں کو توڑ دیا"۔
تاہم بعد ازاں، پاکستانی سیکیورٹی حکام کے بقول، اس اسٹریٹجک خوش خیالی کی جگہ ایک سخت سیکیورٹی تشویش نے لے لی۔
تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا دوبارہ طاقت پکڑنا
ٹی ٹی پی، جو 2007 میں پاکستان کے شمال مغرب میں مختلف گروہوں کے ملاپ سے وجود میں آئی ، یہ طویل عرصے سے اس غیر محفوظ سرحد کے پار سرگرم رہی۔ 2000 کی دہائی میں افغانستان پر امریکہ کے حملے کے دوران، ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں نے افغان طالبان کی حمایت کی اور سرحد پار پناہ گاہیں حاصل کیں، جیسا کہ ماضی میں افغان طالبان عناصر کو بھی کبھی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پناہ ملی تھی۔
جب طالبان 2021 میں کابل واپس لوٹے تو پاکستان نے ان سے توقع کی کہ وہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے والے ان گروہوں کے خلاف تعاون کا مظاہرہ کریں گے۔ تاہم اسلام آباد کا موقف یہ ہے کہ اس کے بجائے ٹی ٹی پی کو افغان علاقے میں دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا۔
پاک فوج کے مطابق، دہشت گردانہ حملے 2021 میں بڑھنا شروع ہوئے — اسی سال جب کابل میں اقتدار تبدیل ہوا۔ اسی سال پاکستان میں 193 حملہ آور ہلاک ہوئے جبکہ قانون نافذ کرنے والے 592 اہلکار مارے گئے، یعنی 1:3 کا تناسب۔
2025 تک، 2,597 دہشت گرد ختم کیے گئے جبکہ 1,235 سیکیورٹی اہلکار اور عام شہری ہلاک ہوئے — تناسب الٹ کر 2:1 ہو گیا۔
آزاد نگرانی کرنے والے اداروں، جیسے آرمڈ کنفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا پروجیکٹ، نے بھی 2022 کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کی سطح میں اضافہ رپورٹ کیا ہے۔
ٹی ٹی پی کے ذریعے دعویٰ کیے گئے حملے، خودکش دھماکوں سے لے کر سیکیورٹی تنصیبات پر حملوں تک ، مستقل طور پر بڑھ رہے ہیں۔
گزشتہ دہائی میں پاکستان کے سب سے زیادہ ہلاکت خیز حملوں میں سے کچھ ٹی ٹی پی نے کیے، جن میں کراچی کے ہوائی اڈے پر حملہ شامل ہے جس میں 28 افراد ہلاک ہوئے اور شمال مغرب کے ایک فوجی اسکول پر حملہ جس میں 141 افراد — زیادہ تر بچے — مارے گئے، ایک ایسی وحشت جس کے بعد سیکیورٹی تجزیہ نگاروں کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کی لہر چلی۔
انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک پاک انسٹی ٹیوٹ برائے پیس اسٹڈیز (PIPS) کی جانب سے جنوری میں شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 میں پاکستان میں دہشت گردی میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا، جب ملک بھر میں تقریباً 699 حملوں میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ناقابلِ تردید شواہد ہیں کہ حالیہ حملوں کی منصوبہ بندی افغان سرزمین سے کی گئی، جن میں 17 فروری کو باجوڑ میں ہونے والا ایک حملہ شامل ہے جس میں 11 سیکیورٹی اہلکار اور دو عام شہری مارے گئے اور غالباً اسے ایک افغان شہری نے انجام دیا تھا۔ تاہم کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک رپورٹ کے مطابق افغان حکام نے ٹی ٹی پی کو اسلحہ فراہم کیا ہے۔
کابل کا موقف ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دیتے اور انہوں نے بار بار افغانستان میں ٹی ٹی پی جنگجوؤں کی موجودگی کی تردید کی ہے۔ اپنی جانب سے، وہ پاکستان پر داعش کی علاقائی شاخ کو پناہ دینے کا الزام لگاتے ہیں — ایک الزام جسے اسلام آباد رد کرتا ہے۔ یہ باہمی الزامات دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اعتماد کی خرابی کی عکاسی کرتے ہیں جو ثقافتی اور مذہبی ربط رکھتے ہیں۔
حالیہ کشیدگی اس پسِ منظر میں آئی ہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستانی فضائی کارروائیوں کی ایک لہر کے بارے میں اسلام آباد کا دعویٰ تھا کہ ان آپریشنز میں افغانستان میں 70 "دہشت گرد" ہلاک ہوئے۔ کابل کا کہنا ہے کہ اس نے جمعرات کی رات سرحد پر جوابی کارروائیاں کیں۔
اس کے بعد رات بھر کابل اور دیگر شہروں میں فضائی آپریشن کیے گئے۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم کے ترجمان مشرف زیدی نے دعویٰ کیا کہ 133 افغان فوجی ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ درجنوں فوجی چوکیوں اور بکتر بند گاڑیوں کو تباہ کیا گیا ہے۔
دونوں جانب سے بھاری نقصانات کے دعوے کیے جا رہے ہیں تو اس تنازع نے بین الاقوامی برادری میں تشویش کو جنم دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹریش نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں اور سفارتی حل تلاش کریں۔ یہ کشیدگی اس وقت سامنے آئی ہے جب خطہ پہلے ہی ایران پر ممکنہ حملے کی تیاری میں امریکی بڑی فوجی تعیناتی کے باعث کشیدہ ہے۔
گزشتہ برس اکتوبر میں ہونے والی جان لیوا جھڑپوں کے بعد ترکیہ، قطر اور سعودی عرب کی ثالثی میں ایک نازک جنگ بندی ہوئی تھی، تاہم یہ عارضی امن برقرار نہیں رہ سکا۔













