امریکہ اور بھارت کا عارضی تجارتی معاہدے کے لیے ایک فریم ورک کا اعلان
بھارتی اپوزیشن کانگریس کا دعویٰ ہے کہ یہ معاہدہ بڑے پیمانے پر امریکہ کے حق میں ہے اور بھارتی کسانوں اور زراعت کے شعبے کو نقصان پہنچاتا ہے۔
امریکہ اور بھارت نے ایک عبوری تجارتی معاہدے کے لیے فریم ورک جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ وسیع تر دوطرفہ تجارتی معاہدے کے لیے جاری مذاکرات کے حوالے سے ان کے عزم کی تجدید کرتا ہے۔
جمعہ کو جاری مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے کہا کہ وہ اس فریم ورک کو "فوری طور پر نافذ" کریں گے اور عبوری معاہدے کو حتمی شکل دینے کی طرف کام کریں گے، جس کا ہدف باہمی طور پر فائدہ مند دوطرفہ تجارتی معاہدے کو مکمل کرنا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ"امریکہ اور بھارت اس فریم ورک کو فوری طور پر نافذ کریں گے اور ٹرمز آف ریفرنس میں طے شدہ روڈ میپ کے مطابق ایک باہمی مفاد پر مبنی دوطرفہ تجارتی معاہدے کے اختتام کے مقصد کے ساتھ عبوری معاہدے کو حتمی شکل دینے کی طرف کام کریں گے۔"
یہ اقدام اس ہفتے کے اوائل میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد سامنے آیا تھا کہ ایک سمجھوتہ طے پایا ہے جس کے تحت بھارتی مصنوعات پر امریکی محصولات 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد تک لائے جائیں گے۔
اس بندوبست کا انحصار اس بات سے جوڑا گیا تھا کہ بھارت روسی تیل کی خریداری بند کرے گا اور بعض تجارتی رکاوٹیں کم کرے گا۔
ٹیرف میں کمی
ٹرمپ نے کہا کہ یہ سمجھوتہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے ساتھ ایک فون کال کے بعد طے پایا اور بتایا کہ بھارت روسی تیل نہیں خریدے گا بلکہ امریکی تیل اور ممکنہ طور پر وینزویلا سے تیل خریدے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ مودی نے اگلے چند برسوں میں توانائی، ٹیکنالوجی، ہوائی جہاز، اور کچھ زرعی اشیاء سمیت امریکی مصنوعات کی خریداری کے لیے 500 بلین ڈالر تک کا عہد بھی کیا ہے۔
جمعہ کو ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کیے جس کے ذریعے بھارت سے درآمدات پر روسی تیل کی خریداری کے باعث عائد کردہ 25 فیصد محصول کو منسوخ کیا گیا۔
امریکہ اور بھارت نے کہا کہ عبوری فریم ورک وسیع تر دوطرفہ تجارتی معاہدے کے مذاکرات کے تحت ان کے عزم کی توثیق کرتا ہے اور اس کا مقصد زیادہ مضبوط سپلائی چین کی حمایت کرنا ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ"امریکہ اور بھارت کے درمیان عبوری معاہدہ ہمارے ممالک کی شراکت داری میں ایک تاریخی سنگ میل کی نمائندگی کرے گا، جو باہمی مفادات اور ٹھوس نتائج کی بنیاد پر باہمی اور متوازن تجارت کے مشترکہ عزم کو ظاہر کرتا ہے۔"
بیان میں بیان کیے گئے شرائط کے مطابق، بھارت امریکی صنعتی مصنوعات اور زرعی مصنوعات کی ایک وسیع اقسام پر محصولات کم کرے گا یا ختم کر دے گا، "جس میں ڈرائیڈ ڈسٹلرز گِرینز (DDGs)، جانوروں کے چارے کے لیے سرخ سورگھم، درختی گری دار میوے، تازہ اور پروسیس شدہ پھل، سویابین آئل، شراب اور قوتِ باہ بخش مشروبات، اور اضافی مصنوعات شامل ہیں۔"
امریکہ علیحدہ طور پر اپنا باہمی محصول 18 فیصد تک کم کرے گا اور بھارتی طیاروں اور متعلقہ پرزوں پر محصولات ختم کرے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ بھارت نے امریکی طبی آلات کی تجارت کو متاثر کرنے والی طویل مدتی رکاوٹوں کو دور کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔
بھارت نے امریکی خوراک اور زرعی مصنوعات کی تجارت پر طویل المدتی غیر محصولاتی رکاوٹوں کو بھی دور کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا، "بھارت آئندہ پانچ سال کے دوران امریکی توانائی مصنوعات، ہوائی جہاز اور طیارہ کے پرزے، قیمتی دھاتیں، ٹیکنالوجی مصنوعات، اور کوکنگ کوئلے کی500 بلین ڈالر تک خریداری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔"
بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل نے جمعرات کو کہا کہ واشنگٹن اور نئی دہلی رواں سال مارچ میں ایک رسمی تجارتی معاہدے پر دستخط کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔
کیا زرعی شعبہ امریکہ کے لیے کھولا جا رہا ہے؟
صدر ٹرمپ، امریکی ٹریڈ ریپریزنٹیٹو جیمیسن گرِیر اور وزارت زراعت کی سیکریٹری بروک رولنز نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کے وسیع زرعی بازار کو کھولا جائے گا، امریکی زرعی اشیاء کے بڑے حصے پر صفر محصول لاگو ہوگا، اور امریکی برآمدات بڑھ کر تجارتی خسارے کو کم کریں گی۔
بھارتی حکام نے بار بار زور دیا ہے کہ زرعی اور ڈیری شعبے مکمل طور پر محفوظ رکھے جائیں گے۔
بھارتی حزبِ اختلاف کانگریس نے معاہدے کے مندرجات پر وضاحت کا مطالبہ کیا ہے اور پارٹی کے صدر ملیکرجن کھڑگے نے خبردار کیا ہے کہ اگر زرعی شعبہ امریکی محصولات کے لیے کھلا تو 2020-21 کے زرعی قوانین کے خلاف ہونے والی بڑی کسان تحریکوں جیسی "وسیع پیمانے پر زرعی احتجاجات" ہو سکتے ہیں، جنہیں مودی حکومت نے واپس لے لیا تھا۔
کانگریس کے رہنماؤں نے مودی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے امریکی زرعی درآمدات کے حوالے سے پوشیدہ رعایتیں دی ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ یہ صورتِ حال مارکیٹوں میں سستی اور سبسڈی یافتہ امریکی پیداوار کی بھرمار کا سبب بن سکتی ہے، جو تفصیلات منظرِ عام پر آنے پر کسانوں اور ڈیری صنعت کو حقیقی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
مودی حکومت کا اصرار ہے کہ کسان محفوظ ہیں، لیکن کانگریس اسے ایک ایسی فروخت قرار دیتی ہے جو دیہی آمدن کے ذرائع کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔