امریکہ اور بھارت کا عارضی تجارتی معاہدے کے لیے ایک فریم ورک کا اعلان
سیاست
5 منٹ پڑھنے
امریکہ اور بھارت کا عارضی تجارتی معاہدے کے لیے ایک فریم ورک کا اعلانبھارتی اپوزیشن کانگریس کا دعویٰ ہے کہ یہ معاہدہ بڑے پیمانے پر امریکہ کے حق میں ہے اور بھارتی کسانوں اور زراعت کے شعبے کو نقصان پہنچاتا ہے۔
جمعہ کو ٹرمپ نے روس سے تیل کی خریداری کے معاملے پر بھارت سے تمام درآمدات پر عائد 25 فیصد تعزیری ڈیوٹی منسوخ کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے۔ [فائل] / AP
7 فروری 2026

امریکہ اور بھارت نے ایک عبوری تجارتی معاہدے کے لیے فریم ورک جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ وسیع تر دوطرفہ تجارتی معاہدے کے لیے جاری مذاکرات کے  حوالے سے ان  کے عزم کی تجدید کرتا ہے۔

جمعہ کو جاری مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے کہا کہ وہ اس فریم ورک کو "فوری طور پر نافذ" کریں گے اور عبوری معاہدے کو حتمی شکل دینے کی طرف کام کریں گے، جس کا ہدف باہمی طور پر فائدہ مند دوطرفہ تجارتی معاہدے کو مکمل کرنا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ"امریکہ اور بھارت اس فریم ورک کو فوری طور پر نافذ کریں گے اور ٹرمز آف ریفرنس میں طے شدہ روڈ میپ کے مطابق ایک باہمی مفاد پر مبنی دوطرفہ تجارتی معاہدے کے اختتام کے مقصد کے ساتھ عبوری معاہدے کو حتمی شکل دینے کی طرف کام کریں گے۔"

یہ اقدام اس ہفتے کے اوائل میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد سامنے آیا تھا کہ ایک سمجھوتہ طے پایا ہے جس کے تحت بھارتی مصنوعات پر امریکی محصولات 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد تک لائے جائیں گے۔

اس بندوبست کا انحصار اس بات سے جوڑا گیا تھا کہ بھارت روسی تیل کی خریداری بند کرے گا اور بعض تجارتی رکاوٹیں کم کرے گا۔

ٹیرف میں کمی

ٹرمپ نے کہا کہ یہ سمجھوتہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے ساتھ ایک فون کال کے بعد طے پایا اور بتایا کہ بھارت روسی تیل نہیں خریدے گا بلکہ امریکی تیل اور ممکنہ طور پر وینزویلا سے تیل خریدے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ مودی نے اگلے چند برسوں میں توانائی، ٹیکنالوجی، ہوائی جہاز، اور کچھ زرعی اشیاء سمیت امریکی مصنوعات کی خریداری کے لیے 500 بلین ڈالر  تک کا عہد بھی کیا ہے۔

جمعہ کو ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کیے جس کے ذریعے بھارت سے درآمدات پر روسی تیل کی خریداری کے باعث عائد کردہ 25 فیصد محصول کو منسوخ کیا گیا۔

امریکہ اور بھارت نے کہا کہ عبوری فریم ورک وسیع تر دوطرفہ تجارتی معاہدے کے مذاکرات کے تحت ان کے عزم کی توثیق کرتا ہے اور اس کا مقصد زیادہ مضبوط سپلائی چین کی حمایت کرنا ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ"امریکہ اور بھارت کے درمیان عبوری معاہدہ ہمارے ممالک کی شراکت داری میں ایک تاریخی سنگ میل کی نمائندگی کرے گا، جو باہمی مفادات اور ٹھوس نتائج کی بنیاد پر باہمی اور متوازن تجارت کے مشترکہ عزم کو ظاہر کرتا ہے۔"

بیان میں بیان کیے گئے شرائط کے مطابق، بھارت امریکی صنعتی مصنوعات اور زرعی مصنوعات کی ایک وسیع اقسام پر محصولات کم کرے گا یا ختم کر دے گا، "جس میں ڈرائیڈ ڈسٹلرز گِرینز (DDGs)، جانوروں کے چارے کے لیے سرخ سورگھم، درختی گری دار میوے، تازہ اور پروسیس شدہ پھل، سویابین آئل، شراب اور قوتِ باہ  بخش مشروبات، اور اضافی مصنوعات شامل ہیں۔"

امریکہ علیحدہ طور پر اپنا باہمی محصول 18 فیصد تک کم کرے گا اور بھارتی طیاروں اور متعلقہ پرزوں پر محصولات ختم کرے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارت نے امریکی طبی آلات کی تجارت کو متاثر کرنے والی طویل مدتی رکاوٹوں کو دور کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔

بھارت نے امریکی خوراک اور زرعی مصنوعات کی تجارت پر طویل المدتی غیر محصولاتی رکاوٹوں کو بھی دور کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا، "بھارت آئندہ پانچ سال کے دوران امریکی توانائی مصنوعات، ہوائی جہاز اور طیارہ کے پرزے، قیمتی دھاتیں، ٹیکنالوجی مصنوعات، اور کوکنگ کوئلے کی500 بلین ڈالر  تک خریداری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔"

بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل نے جمعرات کو کہا کہ واشنگٹن اور نئی دہلی رواں سال مارچ میں ایک رسمی تجارتی معاہدے پر دستخط کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔

کیا زرعی شعبہ امریکہ کے لیے کھولا جا رہا ہے؟

صدر ٹرمپ، امریکی ٹریڈ ریپریزنٹیٹو جیمیسن گرِیر اور وزارت زراعت کی سیکریٹری بروک رولنز نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کے وسیع زرعی بازار کو کھولا جائے گا، امریکی زرعی اشیاء کے بڑے حصے پر صفر محصول لاگو ہوگا، اور امریکی برآمدات بڑھ کر تجارتی خسارے کو کم کریں گی۔

بھارتی حکام نے بار بار زور دیا ہے کہ زرعی اور ڈیری شعبے مکمل طور پر محفوظ رکھے جائیں گے۔

بھارتی حزبِ اختلاف کانگریس نے معاہدے کے مندرجات پر وضاحت کا مطالبہ کیا ہے اور پارٹی کے صدر ملیکرجن کھڑگے نے خبردار کیا ہے کہ اگر زرعی شعبہ امریکی محصولات کے لیے کھلا تو 2020-21 کے زرعی قوانین کے خلاف ہونے والی بڑی کسان تحریکوں جیسی "وسیع پیمانے پر زرعی احتجاجات" ہو سکتے ہیں، جنہیں مودی حکومت نے واپس لے لیا تھا۔

کانگریس کے رہنماؤں نے مودی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے امریکی زرعی درآمدات کے حوالے سے پوشیدہ رعایتیں دی ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ یہ صورتِ حال مارکیٹوں میں سستی اور سبسڈی یافتہ امریکی پیداوار کی بھرمار کا سبب بن سکتی ہے، جو تفصیلات منظرِ عام پر آنے پر کسانوں اور ڈیری صنعت کو حقیقی نقصان پہنچا سکتی ہے۔

مودی حکومت کا اصرار ہے کہ کسان محفوظ ہیں، لیکن کانگریس اسے ایک ایسی فروخت قرار دیتی ہے جو دیہی آمدن کے ذرائع کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

 

دریافت کیجیے
چین میں بڑے سیاسی اجلاس شروع ہوگئے
امریکہ: 9,000 امریکی شہری مشرق وسطی سے نکل گئے
آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت ہم کریں گے: ٹرمپ
امریکی-اسرائیلی جنگ ایران پر امریکی فوجی تعمیر میں آخری چند دہائیوں میں سب سے بڑی ہے: سی ای این ٹی سی او ایم
جنوبی کوریائی بحریہ کے افسر کو مارشل لا کی ناکام کوشش کے الزام میں معطل کر دیا گیا
ایران کے خلاف جنگ کے پہلے 4 دنوں میں امریکی نقصان 2 بلین ڈالر
پاکستان کا افغان چوکیوں پر حملہ،متعدد افغان فوجی ہلاک
ترکیہ کی فضائی کمپنیوں  نے 6 مارچ تک تمام پروازیں معطل کر دیں
ہم، ایرانی شہریوں کو درپیش تکالیف کی مذّمت اور جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں: اردوعان
ٹرمپ کا جنونی پن دنیا کو تیسری عالمی جنگ میں جھونک دےگا:روس
ایران میں امریکی فوجی آپریشن کے بعد سے ابتک 6 امریکی عسکری اہلکار ہلاک
اسرائیل نے غزہ میں امداد کی فراہمی معطل کر دی:اقوام متحدہ
آبنائے ہرمز سے جو جہاز گزرے گا وہ تباہ ہوگا:ایران
خامنہ آئی کی موت سےحالات بگڑ گئے،شمالی علاقہ جات میں کرفیو نافذ
کویت میں امریکی F-15طیارہ گر گیا،پائلٹ محفوظ