عالمی ادارۂ صحت: غزہ سے طبی انخلاء عارضی طور پر روک دیا گیا ہے
اسرائیلی حملے میں ادارے کے لئے سمجھوتے پر کام کرنے والے ایک شخص کی ہلاکت کے بعد غزہ سے طبی انخلا کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے: ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارۂ صحت 'WHO' نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی حملے میں ادارے کے لئے سمجھوتے پر کام کرنے والے ایک شخص کی ہلاکت کے بعد غزہ سے طبی انخلا کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے ۔
تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے سوشل میڈیا X سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ڈبلیو ایچ او نہایت دُکھ سے تصدیق کرتا ہے کہ غزہ میں تنظیم کو خدمات فراہم کرنے کے لیے کنٹریکٹ پر کام کرنے والا ایک شخص آج ایک سکیورٹی واقعے میں ہلاک ہو گیا ہے۔"
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ واقعے کے وقت WHO عملے کے 2 اور ارکان بھی موقع پر موجود تھے، تاہم وہ محفوظ رہے ہیں اور انہیں کوئی زخم نہیں آیا۔
ٹیڈروس نے مزید کہا ہے کہ"اس واقعے کے بعد WHO نے آج 'براستہ رفح ' مصر منتقل کئے جانے والے مریضوں کے طبی انخلا کو معطل کر دیا ہے۔ اگلے اعلان تک طبی انخلا نہیں کیا جائے گا۔"
اقوام متحدہ کے عالمی ادارۂ صحت نے واقعے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم ٹیڈروس نے کہا ہے کہ "متعلقہ حکام" معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
انہوں نے "عام شہریوں اور امدادی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنائے جانے کا مطالبہ بھی کیا ہے"۔
واضح رہے کہ اسرائیل، غزّہ میں دو سالہ نسل کُشی جنگ کے بعد 10 اکتوبر کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
اکتوبر 2023 سے تاحال اسرائیل کی نسل کُشی کارروائیوں میں، زیادہ تر عورتوں اور بچوں پر مشتمل، 72,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں ۔