جنوبی کوریا کے صدر کا اظہارِ پشیمانی
اگرچہ یہ ہمارا حکومتی عمل نہیں تھا لیکن میں شمالی کوریا کے سامنے پشیمانی کا اظہار کرتا ہوں: صدر لی جے-میونگ
جنوبی کوریا کے صدر 'لی جے میونگ' نے پیر کے روز ایک غیر معمولی قدم اٹھایا اور ڈرون پروازوں کے شخصی واقعات پر شمالی کوریا سے پشیمانی کا اظہار کیا ہے۔
یونہاپ خبر ایجنسی کے مطابق لی نے بعض افراد کی شخصی سطح پر شمالی کوریا کی طرف کی گئی اور پیانگ یانگ کے ساتھ غیر ضروری فوجی کشیدگی کو جنم دینے والی ڈرون پروازوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
خبر کے مطابق انہوں نے کابینہ اجلاس میں کہا ہے کہ اٹارنی دفتر نے گزشتہ ہفتے ستمبر 2025 سے جنوری 2026 کے درمیان شمالی کوریا کی جانب ڈرون اڑانے کے الزام میں تین افراد پر فردِ جرم عائد کی ہے۔اگرچہ یہ ہمارا حکومتی عمل نہیں تھا لیکن، اس طرح کےغیر ذمہ دارانہ رویے سے پیدا ہونے والی غیر ضروری فوجی کشیدگی کے باعث، میں شمالی کوریا کے سامنے پشیمانی کا اظہار کرتا ہوں۔"
اگرچہ لی اس سے قبل بھی شمالی کوریا کی طرف ڈرون بھیجنے کی کوششوں پر تنقید کرتے رہے ہیں، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ انہوں نے براہِ راست شمالی کوریا سے اظہارِ افسوس کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "شخصی سطح پر اس نوعیت کی اشتعال انگیز کارروائیاں "نہایت افسوسناک" اور "ناقابلِ قبول" فعل ہیں ۔
لی نے مزید کہا ہے کہ ان اقدامات نے سرحدی علاقوں کے رہائشیوں میں تشویش پیدا کی ہے اور یہ معاملہ نمایاں سطح پر بے چینی کا باعث بنا ہے۔
واضح رہے کہ صدر نے جون 2025 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے مفاہمت کا ہاتھ بڑھایا ہے تاہم پیانگ یانگ نے ان کوششوں کو مسترد کر دیا اور گزشتہ ماہ جنوبی کوریا کو باضابطہ طور پر "سب سے بڑی دشمن ریاست" قرار دیا ہے۔