اقوام متحدہ میں اسرائیل کی رکنیت معطل کی جائے:ترکیہ

نعمان  کرتولموش نے  فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کا بل متعارف کرانے کے اقدام پر تنقید کرتے ہوئے اور نسل پرستانہ  دور کے جنوبی افریقہ کے خلاف بین الاقوامی کارروائی کو بطور مثال پیش کرتے ہوئے یہ تجویز پیش کی ہے

By
نعمان کرتولمش / AA

ترک پارلیمانی  اسپیکر نعمان کُرتولمش نے اسرائیل کو اقوامِ متحدہ سے معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  نعمان  کرتولموش نے  فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کا بل متعارف کرانے کے اقدام پر تنقید کرتے ہوئے اور نسل پرستانہ  دور کے جنوبی افریقہ کے خلاف بین الاقوامی کارروائی کو بطور مثال پیش کرتے ہوئے یہ تجویز پیش کی ہے۔

استنبول میں بین الپارلیمانی یونین (IPU) کی 152ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے کے دوران سن 1974 میں جنوبی افریقہ کی اقوامِ متحدہ کی رکنیت کی معطلی کو یاد کرتے ہوئے کُرتولمش نے کہا  کہ  بین الاقوامی نظام نے ماضی میں نسل پرستی کے خلاف کارروائی کی تھی ۔

کُرتولمش نے اقوامِ متحدہ پر بھی تنقید کی اور کہا  کہ وہ حالیہ تنازعات کو روکنے میں ناکام رہی

انہوں نے کہا  کہ بدقسمتی سے، اقوامِ متحدہ ایک ایسا بین الاقوامی ادارہ بن چکی ہے جو طاقت رکھنے والوں کی خواہشات کے مطابق چلایا جاتا ہے۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزیوں کا سامنا ہے، کُرتولمش نے واضح کیا کہ تمام ریاستوں کے مساوی اور  خودمختار حقوق ہیں۔

انہوں نے عمان کی شورٰی کونسل کے چیئرمین خالد المعولی سے ملاقات کی، عمان کی ثالثی کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا اور پاکستان میں مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا تاکہ جنگ بندی کو مستقل بنایا جا سکے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے اقدامات خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان دشمنی کو ہوا دے سکتے ہیں۔

 ترک اسپکر  نے بتایا  کہ ترکیہ چوتھی بار IPUجنرل اسمبلی کی میزبانی کر رہا ہے، جس  کے  دوران استنبول میں تقریباً 155 ممالک کی نمائندگی موجود ہے