اگر ہم ایسا نہیں کرتے، تو روس یا چین گرین لینڈ پر قبضہ کر لیں گے، ٹرمپ
امریکی صدر ٹرمپ نے ڈنمارک کے گرین لینڈ پر دعوے پر سوال اٹھایا ہے کہ "یہ حقیقت کہ انہوں نے 500 سال پہلے وہاں کشتی اتاری تھی، اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اس زمین کے مالک ہیں۔"
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی دھمکیوں کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن آرکٹک جزیرے کو حاصل کرنے کے لیے "آسان یا سخت طریقہ کار" اختیار کرے گا۔
جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں تیل اور گیس کے ایگزیکٹو افسران کے ساتھ ملاقات میں، ٹرمپ نے ڈنمارک کی گرین لینڈ پر حاکمیت کو نظر انداز کیا اور امریکی مداخلت کو قومی سلامتی کی ضرورت قرار دیا۔
ٹرمپ نے کہا"ہم گرین لینڈ کے بارے میں کچھ کریں گے، چاہے انہیں پسند ہو یا نہ ہو،"
انہوں نے یہ دلیل بھی دی کہ اگر ہم ایسا نہ کریں تو روس یا چین گرین لینڈ پر قبضہ کر لیں گے — اور ہم روس یا چین کو پڑوسی کے طور پر قبول نہیں کریں گے۔
"ہم روس یا چین کو گرین لینڈ پر قابض نہیں ہونے دیں گے۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو یہی ہو گا۔"
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام کے ساتھ کسی معاہدے کو ترجیح دیں گے، مگر واضح کیا کہ جبری طریقہ بھی ایک متبادل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا"میں چاہوں گا کہ ہم ایک ڈیل کریں، آپ جانتے ہیں، آسان طریقے سے۔"
"لیکن اگر ہم آسان طریقے سے نہیں کر پائے تو ہم سخت طریقہ اپنائیں گے۔"
یہ بیانات ٹرمپ کے ان مضبوط عوامی دعوؤں میں سے ایک تھے جن سے واضح ہوا کہ امریکہ ڈنمارک کے زیر انتظام خودمختار علاقے پر ڈنمارک کی اتھارٹی کو عبور کرنے کے لیے تیار ہے، حالانکہ یہ علاقہ ڈنمارک کے شہنشاہی نظام کا حصہ رہتے ہوئے اپنی داخلی امور کی بیشتر خود حکمرانی کرتا ہے۔
ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ خاص طور پر جب آرکٹک میں رسی کشی زور پکڑ رہی ہے، گرین لینڈ کا اسٹریٹجک محل وقوع اور معدنی دولت اسے امریکی سلامتی کے مفادات کے لیے انتہائی اہم بناتی ہیں۔
"ہم روس یا چین کو گرین لینڈ پرقابض نہیں ہونے دیں گے۔"
یورپ میں گہری تشویش
ڈنمارک اور دیگر یورپی اتحادیوں نے ٹرمپ کی زبان پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ پر کوئی بھی قبضے کی کوشش نیٹو اور دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم سلامتی کے نظام کو نقصان پہنچائے گی۔
ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹ فریڈرکسن نے پہلے کہا تھا کہ اگر امریکہ گرین لینڈ پر حملہ کرتا ہے تو یہ "ہر چیز کا اختتام" ہوگا، جس کا حوالہ انہوں نے بحرِ اوقیانوس کے پار اتحاد اور دہائیوں پر محیط مشترکہ سلامتی انتظامات سے دیا تھا۔
تاہم ٹرمپ نے ڈنمارک کے خدشات کو نظر انداز کرتے ہوئےکہا ان کا کوپن ہیگن کے خلاف کوئی بغض نہیں ہے۔
انہوں نے کہا"میں بھی ڈنمارک کا فین ہوں، انہوں نے میرے ساتھ بہت اچھا برتاؤ کیا ہے،"
مگر انہوں نے ڈنمارک کے تاریخی دعوے پر سوال اٹھایا: "یہ حقیقت کہ ان کی ایک کشتی پانچ سو سال پہلے وہاں پہنچ گئی تھی اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ زمین کے مالک ہیں۔"
روبیو کی ڈنمارک اور گرین لینڈ حکام سے بات چیت
گرین لینڈ پہلے ہی ایک امریکی فوجی اڈے کی میزبانی کرتا ہے، اور واشنگٹن نے طویل عرصے سے اس جزیرے پر اسٹریٹجک موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے۔
ٹرمپ کے بیانات اس موقف سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے براہِ راست کنٹرول کے اعلان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
ان بیانات کے وقت نے بھی توجہ مبذول کروائی ہے۔ ٹرمپ نے یہ باتیں امریکہ کی وینیزویلا میں فوجی کارروائی کہ جس کے نتیجے میں صدر نیکولس مادورو کے اغوا کی اطلاع آئی تھی کے چند روز بعد ہی کی ہیں۔ یہ ایک ایسا اقدام جس پر بین الاقوامی سطح پر تنقید ہونے لگی ہے اور واشنگٹن کی بیرونِ ملک طاقت کے استعمال کی تیار ی کے بارے میں خدشات بڑھے ہیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ آئندہ ہفتے ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ اور گرین لینڈ کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے، ایک قدم جو یہ پرکھ سکتا ہے کہ آیا ٹرمپ کا "آسان طریقہ" ابھی بھی قابلِ عمل ہے — یا کشیدگی مزید بڑھتی رہیں گی۔
فی الحال، ٹرمپ کی براہِ راست وارننگ نے امریکہ، ڈنمارک اور وسیع یورپی اتحاد کے باہمی تعلقات میں نئی غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی ہے، کیونکہ یہ سوالات سامنے آ رہے ہیں کہ واشنگٹن آرکٹک میں اپنے مفادات کو محفوظ کرنے کے لیے کہاں تک جانے کو تیار ہے۔
مادورو کا اغوا
گرین لینڈ کے بارے میں ٹرمپ نے براہِ راست امریکی مداخلت کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کرنے کے لیے جو اصطلاح استعمال کی ہیں، اسی طرزِ کلام کی عکاسی کرتی ہیں۔
چند روز قبل، انہوں نے وینیزویلا کو بھی سلامتی اور اسٹریٹجک ضرورت کے طور پر پیش کیا، اور ایک امریکی حملے کی نگرانی کی جس کے نتیجے میں صدر نیکولس مادورو کے اغوا کا واقعہ پیش آیا اور واشنگٹن کے ملک کے تیل کے شعبے پر کنٹرول کے ارادے کا اشارہ ملا۔
دونوں صورتوں میں، ٹرمپ کا کہنا رہا ہے کہ حریف طاقتوں کے اثر و رسوخ کو بڑھنے سے روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدام ضروری ہے، جبکہ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ امریکہ طاقت کے بجائے معاہدوں کو ترجیح دیتا ہے۔
تاہم انہوں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو واشنگٹن اعتراضات کے باوجود کارروائی کرے گا۔
گرین لینڈ اور وینیزویلا کا ایک ہی فریم ورک میں پیش کرنا اتحادیوں میں خدشات کو ہوا دیتا ہے کہ امریکی پالیسی میں زبردستی کی طرف مائل رحجانات بڑھ رہے ہیں، جہاں اسٹریٹجک علاقے اور توانائی کے وسائل معاملاتِ سفارت کاری کے بجائے نفاذ کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔