سیاست
4 منٹ پڑھنے
ایران: پابندیاں دوبارہ نافذ کیے جانے کی صورت میں ہم تعاون ختم کر دیں گے
وزیر خارجہ عراقچی: ای 3 کی طرف سے پابندیوں کو بحال کرنے کی کوشش 'یورپی ساکھ کو نا قابل تلافی نقصان' پہنچائے گی
ایران: پابندیاں دوبارہ نافذ کیے جانے کی صورت میں ہم تعاون ختم کر دیں گے
Iran's Foreign Minister Abbas Araghchi. / Reuters

ایرانی خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق ایران نے جمعہ کے روز خبردار کیا کہ اگر یورپی طاقتوں کی جانب سے اسنیپ بیک میکانزم کے ذریعے اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ کی گئیں تو وہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ تعاون ختم کر دے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تین یورپی اراکین – برطانیہ، فرانس، اور جرمنی – کے اس میکانزم کو فعال کرنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے "قانونی اور سیاسی طور پر بے بنیاد” اور “یورپ کی بین الاقوامی ساکھ اور 2015 کے جوہری معاہدے کے لیے ایک سنگین خطرہ" قرار دیا۔

عراقچی نے خبردار کیا کہ پابندیوں کو بحال کرنے کی یورپی کوشش یورپی ساکھ کو "ناقابل تلافی نقصان"پہنچائے گی، اور زور دیا کہ "اس کھیل میں، تینوں ممالک نہ صرف ناکام ہوں گے بلکہ مستقبل کے سفارتی عمل سے بھی باہر ہو جائیں گے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اس مختصر موقع کو نظر انداز کرنامغربی ایشیا اور بین الاقوامی نظام کے لیے وسیع پیمانے پر تباہ کن نتائج” کا باعث بنے گا، جو بین الاقوامی معاہدوں کو نقصان پہنچائے گا اور اجتماعی سلامتی کو غیر مستحکم کرے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران "اپنی خودمختاری، حقوق یا سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔"

انہوں نے کہا کہ 9 ستمبر کو IAEA کے ساتھ دستخط شدہ تازہ ترین معاہدے کا نفاذ – جو مصری ثالثی کے ساتھ طے پایا – اس شرط سے مشروط ہے کہ ایران کے خلاف کوئی معاندانہ اقدامات، بشمول اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منسوخ شدہ قراردادوں کی بحالی، نہ کیے جائیں۔

“عراقچی نے کہا کہ بصورت دیگر، اسلامی جمہوریہ ایران اپنے عملی اقدامات کو ختم شدہ تصور کرے گا۔

دباؤ اور حملوں کے باوجود، عراقچی نے زور دیا کہ ایران نے ہمیشہ اپنی پرامن جوہری سرگرمیوں سے متعلق مسائل کو حل کرنے میں تحمل اور سفارت کاری کے عزم کا مظاہرہ کیا ہے اور  یہ "تعمیری اور بامعنی مذاکرات" کے لیے تیار ہے جبکہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے تحت اپنے حقوق کا تحفظ کر رہا ہے۔

2015 کے جوہری معاہدے کے یورپی دستخط کنندگان – برطانیہ، فرانس، اور جرمنی – نے 28 اگست کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے تحت اسنیپ بیک میکانزم کو فعال کیا، جب ایران نے اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے  کو جانبدار قرار دیتے ہوئے اس کے ساتھ تعاون روک دیا۔

ایران نے یورپی اقدام کو قانونی طور پر بے بنیاد اور سیاسی طور پر محرک قرار دے کر مسترد کر دیا۔

کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب اسرائیل نے 13 جون کو تہران پر اچانک حملہ کیا، جس میں فوجی، جوہری، اور شہری مقامات کے ساتھ ساتھ اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور جوہری سائنسدانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

تہران نے جوابی میزائل اور ڈرون حملے کیے، جبکہ امریکہ نے تین ایرانی جوہری مقامات پر بمباری کی۔

12 دن کی جنگ 24 جون کو ایک امریکی  ثالثی  کی کوششوں پر مبنی  جنگ بندی کے تحت ختم ہوئی۔

یورپی طاقتیں چاہتی ہیں کہ ایران اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کے لیے رسائی بحال کرے، اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے متعلق خدشات کو دور کرے، اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہو، جو عمان کی ثالثی کے ساتھ جاری تھے لیکن اسرائیلی حملے کے بعد ختم ہو گئے۔

چین ایران کے خلاف اسنیپ بیک کی مخالفت کرتا ہے۔

دریں اثنا، چین نے یورپی طاقتوں کے اسنیپ بیک میکانزم پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ “ایرانی جوہری مسئلے کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔”

وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے بیجنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ "ہم طاقت کے استعمال، پابندیوں یا دباؤ کے خلاف ہیں۔ اسنیپ بیک تعمیری نہیں ہے اور اعتماد کی بحالی اور اختلافات کو ختم کرنے میں مددگار نہیں ہوگا۔"

“یہ ضروری ہے کہ سفارتی کوششوں کو مضبوط کیا جائے اور کشیدگی میں اضافے سے بچا جائے۔”

ترجمان نے مزید کہا کہ چین"تمام فریقوں کے لیے قابل قبول منصوبے تک پہنچنے میں تعمیری کردار ادا کرے گا۔"

 

دریافت کیجیے
ترکیہ کوانٹم اور خلائی ٹیکنالوجی کے لئے خصوصی فنڈ مختص کر رہا ہے
اگست دنیا کا گرم ترین مہینہ
آبنائے ہرمز کا نام آبنائے ٹرمپ ہونا چاہیئے:ٹرمپ
اردن کے امریکی اڈے پر ایران کا حملہ،تفصیلات سامنے آ گئیں
فلپائن : فیری میں آگ لگنے سے پانچ افراد ہلاک اور 80 سے زائد لاپتہ
شام میں دھماکہ،ترکیہ کی تعزیت
انڈونیشیا: صحافیوں کو لے جانے والی کشتی لاپتہ ہو گئی
ملائیشیا میں ہیلی کاپٹر کا حادثہ،5 افراد ہلاک
اسرائیل: مقبوضہ مشرقی القدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کر دیا جائے
امریکہ کے ایرانی ٹینکروں پر حملے، مشرق وسطی میں تناؤ بڑھ گیا
نیتین یاہو نے مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا ہے:نفتالی بینیٹ
نیوزی لینڈ: اسرائیلی کاروائیاں پائیدار امن کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہی ہیں
جب تک حملہ آور پشیمان نہیں ہوتے ایران مزاحمت جاری رکھے گا: پزشکیان
ترک دفترِ خارجہ کی طرف سے ملادچ کے لیے آخری رسومات کے خصوصی اہتمام پر رد عمل
اسرائیلی فورسز کے چھاپے کے دوران ایک فلسطینی شخص کو قتل کر  دیا گیا