اسپین نے اسرائیل کی سفیرہ کو بر طرف کر دیا
سالومون جولائی 2021 سے اسپین کی نمائندہ رہی ہیں، مگر ستمبر میں مشاورت کے لیے واپس بلائی گئی تھیں جب دونوں حکومتوں کے درمیان تناؤ بڑھ گیا تھا
اسپین نے باضابطہ طور پر اسرائیل کی اپنی سفیرہ اینا سالومون کو معطل کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ گزشتہ روز اسپین کے سرکاری گزٹ میں شائع کیا گیا، اور اسے وزیرِ خارجہ ہوزےمینوئل البارس کی تجویز پر کابینہ نے منظور کیا تھا۔
سالومون جولائی 2021 سے اسپین کی نمائندہ رہی ہیں، مگر ستمبر میں مشاورت کے لیے واپس بلائی گئی تھیں جب دونوں حکومتوں کے درمیان تناؤ بڑھ گیا تھا۔
مدرید نے اسرائیل کے ہتک آمیز الزامات کو سختی سے مسترد کیا اور ان اقدامات پر تنقید کی جو اسپینی وزرا کے خلاف کیے گئے،۔
سفارتی کشیدگی کے دوران اسرائیلی حکام نے اسپین کی وزیرِ محنت یولینڈا ڈیاز اور وزیرِ برائے نوجوانان سیرا ریگو کے بیانات پر بھی اعتراض کیا۔
سالومون کی برطرفی کے باضابطہ ہونے کے بعد اسپین کا اسرائیل میں سفارت خانہ ایک ناظم الامورکی قیادت میں رہے گا جب تک مدرید حکومت نیا سفیر نامزد نہیں کرتی۔
حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے ہیں اسرائیل میں بھی ہسپانوی سفارتی مشن 2024 میں سابق سفیر کی سبکدوشی کے بعد ناظم الامور کے زیرِ انتظام ہے۔
سفارتی اختلاف اس وقت مزید گہرا ہو گئے جب اسپین نے ریاستِ فلسطین کو تسلیم کیا جس کی اسرائیل نے سخت مخالفت کی تھی ۔