پاکستان کا افغان چوکیوں پر حملہ،متعدد افغان فوجی ہلاک
تارڑ نے کہا کہ افغان افواج نے شمال مغربی خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں بھی 25 مقامات پر حملے کیے، جہاں پاکستانی افواج نے 40 افغان سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے پاکستان نے افغانستان کے متعدد حملوں کو کامیابی سے پسپا کر دیا۔
تارڑ نے X پر کہا کہ افغان افواج نے بلوچستان کے جنوب مغربی اضلاع قلعہ سیف اللہ، نوشکی اور چمن میں 16 مقامات پر زمینی حملے کیے، جوابی حملوں میں پاکستان نے 27 افغان اہلکاروں کو ہلاک کی۔
تارڑ نے کہا کہ افغان افواج نے شمال مغربی خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں بھی 25 مقامات پر حملے کیے، جہاں پاکستانی افواج نے 40 افغان سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا۔
کابل کی طرف سے پاکستانی اعداد و شمار پر فوری تبصرہ موصول نہیں ہوا۔
تاہم، پاکستان اور افغانستان دونوں نے جمعرات سے ایک دوسرے پر بھاری نقصان پہنچانے کا بار بار دعویٰ کیا ہے، جب افغانستان نے گزشتہ اتوار کو پاکستانی فضائی حملوں کے جواب میں حملے کیے تھے۔ اس کے بعد سے پاکستان نے سرحدی علاقوں میں کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔
تارڑ نے پیر کو کہا تھا کہ لڑائی میں 435 افغان سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں اور 31 چوکیوں پر قبضہ کیا گیا ہے۔
حالیہ دنوں میں کابل نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے پاکستان کی فوج کو نمایاں نقصان پہنچایا۔
افغان فورسز کے ہلاک ہونے کے بارے میں تازہ اعلان ایک روز بعد آیا جب پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے افغانستان میں جاری حملوں کا دفاع کیا اور کہا کہ اسلام آباد نے افغان علاقے سے آپریشن کرنے والے مبینہ دہشت گردوں کو نشانہ بنانے سے پہلے تمام سفارتی راستے آزما لیے تھے۔
انہوں نے کابل سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان میں حملوں کی ذمہ دار جماعتوں کو غیر مسلح کرے۔
پاکستان نے اپنی کارروائیوں کو افغانستان کے ساتھ 'کھلی جنگ' قرار دیا ہے۔
پاکستان میں حالیہ مہینوں میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے، جس کی ذمہ داری وہ ممنوعہ تحریکِ طالبانِ پاکستان (ٹی ٹی پی) پر عائد کرتا ہے، جو پاکستان کے اندر اور افغان علاقے سے کارروائیاں کرتی ہے۔
اسلام آباد کا الزام ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت ٹی ٹی پی کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرتی ہے، جسے کابل مسترد کرتا ہے