فلسطین: علی شعث نے فرائض کا آغاز کر دیا
ڈاکٹر علی شعث نے، غزّہ انتظامی کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے باضابطہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں
ڈاکٹر علی شعث نے، غزّہ انتظامی کمیٹی' NCAG ' کے سربراہ کی حیثیت سے باضابطہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔
بروز ہفتہ، رات گئے سوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ بیان میں شعث نے کہا ہے کہ "آج اپنے فرائض کے باضابطہ آغاز پر میں نے اپنی کاروائیوں کے اصول و ضوابط اور ذمہ داریوں کے تعین کے لئے غزّہ انتظامی کمیٹی کے مشن اعلامیے کی منظوری دی ہے"۔
انہوں نے کہا کہ غزّہ انتظامی کمیٹی کو اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کی منظوری حاصل ہے، اور اس کا فریضہ غزّہ کے عبوری دور کو فلسطین کی پائیدار خوشحالی کی بنیادمیں تبدیل کرنا ہے۔
شعث نے مزید کہا ہے کہ کمیٹی غزّہ کی، صدر ٹرمپ کے زیرِ صدارت 'امن بورڈ' کی رہبری اور غزہ کے نمائندہ اعلیٰ کی حمایت و تعاون کے ساتھ کام کرے گی"۔
انہوں نے کہا ہے کہ "ہمارا مقصد غزہ کی پٹی کے صرف بنیادی ڈھانچے کی ہی نہیں نفسیاتی حالت کی بھی تعمیرِ نو کرنا ہے"۔
بیان کے مطابق، NCAG کا مقصد تحفظ، بجلی، پانی، صحتِ عامہ اور تعلیم جیسی بنیادی خدمات کوبحال کرنا اور امن، جمہوریت، اور انصاف کی بنیاد والی انتظامیہ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے"۔
شعث نے کہا ہے کہ غزّہ کمیٹی، بلند ترین معیارِ صداقت اور شفافیت کے ساتھ اور ایک پیداواری اور سب کے لئے روزگار کے مواقع کی حامل معیشت کے قیام کے لیے کام کرے گی"۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ " ہم امن کے ایک ایسے راستے کا خیر مقدم کرتے ہیں جوحقیقی فلسطینی حقوق اور حقِ خودارادیت کی طرف جانے والے راستے کا ضامن ہو" ۔