ترکیہ-سعودی عرب معاہدہ۔ٹرانزٹ تجارت کا آغاز

انقرہ میں ایک تقریب میں ترک وزیر تجارت عمر  بولات نے کہا کہ وہ مصنوعات جو اس اسٹریٹجک آبی  راستے سے نہیں گزر پاتیں انہیں متبادل لاجسٹک چینلز کے ذریعے بھیجا جائے گا۔

By
عمر بولات / AA

ترکیہ نے سعودی عرب کے ساتھ عبوری تجارت شروع کر دی ہے تاکہ آبنائے  ہرمز  میں خلل کے دوران خطّی ممالک تک مال کی ترسیل جاری رکھی جا سکے۔

انقرہ میں ایک تقریب میں ترک وزیر تجارت عمر  بولات نے کہا کہ وہ مصنوعات جو اس اسٹریٹجک آبی  راستے سے نہیں گزر پاتیں انہیں متبادل لاجسٹک چینلز کے ذریعے بھیجا جائے گا۔

"ہم نے سعودی عرب کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت عبوری تجارت شروع کر دی ہے۔ اس کے ذریعے وہ مصنوعات جو تنگِ ہرمز کے ذریعے نہیں گزرسکتیں، کچھ پائپ لائن کے ذریعے اور کچھ سڑک کے راستے سے  علاقائی ممالک تک پہنچتی رہیں گی،۔

بولات نے تصدیق کی کہ اس انتظام کے تحت اب عبوری ویزے جاری کیے جا رہے ہیں اور کہا کہ اس اقدام سے خلیج میں تجارتی بہاؤ کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے اس جنگ کی طرف اشارہ کیا جو فروری کے آخر میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہوئی جس کی وجہ سے پیٹروکیمیکلز، کیمیکلز اور کھاد سمیت مصنوعات میں سنگین خلل پیدا ہوا ہے۔

وزیر نے زور دیا کہ حکومت معاشی مفادات کو نقصان پہنچنے سے بچانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا  کہ ترکیہ نے لاجسٹکس میں بڑے ترقیاتی قدم اٹھائے ہیں اور اب اس شعبے کی مالیت $112 بلین ہے۔

زرعی حوالے سے بولات نے کہا کہ ترکیہ کے پاس مناسب ذخائر موجود ہیں اور اس سال ریکارڈ پیداوار کی توقع ہے۔

انہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ حکومت نے کھاد کے مناسب ذخائر قائم کر لیے ہیں اور فراہمی کے مسائل سے بچنے کے لیے درآمدات پر کسٹم ڈیوٹی صفر کر دی گئی ہے۔