ملک میں اسلحہ قوانین کو سخت کرنے کی ضرورت ہے: البانیز

فردِ واحد کے پاس اسلحے کی تعداد پر حد بندی سمیت سخت تر اسلحہ قوانین کی ضرورت ہے اور حکومت تمام ضروری کارروائیوں کے لئے تیار ہے: اینتھونی البانیز

By
آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز 15 دسمبر 2025 کو سڈنی، آسٹریلیا میں حملے کے مقام کا دورہ کر رہے ہیں۔ / Reuters

آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے بروز سوموار، سڈنی  کے ساحل پر یہودی تہوار کو ہدف بنا کر کئے گئے اور 15 افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے مسلح حملے کے بعد، زیادہ سخت  اسلحہ قوانین کی تجویز پیش کی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق 'آپس میں باپ  بیٹا  'دو ملزم حملہ آوروں  نے  اتوار کی شام حانوکاہ تہوار کے آغاز کے لیے ساحل پر جمع بھیڑ پر فائرنگ کی۔50 سالہ باپ کے پاس  چھ ہتھیار رکھنے کا لائسنس تھااور حملے میں  انہی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم انتھونی البنیز نے صحافیوں کے لئے جاری کردہ بیان میں فردِ واحد کے پاس اسلحے کی تعداد پر حد بندی سمیت سخت تر اسلحہ قوانین کی ضرورت پر زور دیا اور کہا ہے کہ" حکومت تمام  ضروری کارروائیوں کے لئے تیار ہے"۔

البنیز نے کہا  ہےکہ "ہم اصلاحات  کو، بروز سوموار بعد دوپہر صوبائی وزرائے اعلیٰ  کی شرکت سے متوقع، قومی کابینہ  اجلاس میں پیش کریں گے۔ لوگ وقت کے ساتھ انتہاپسند ہو سکتے ہیں لہٰذا  اسلحہ لائسنس مستقل نہیں ہونے چاہئیں"۔

البنیز نے کہا  ہےکہ "یہ وقت ہے کہ غور کیا جائے کہ کیا ملک کے اسلحہ قوانین کو دوبارہ سخت کرنے کی ضرورت ہے؟ میں۔۔۔ یقیناً اس کے حق میں ہوں"۔

اسلحہ قوانین سخت مگر سوالات باقی

1996 میں پورٹ آرتھر کے سیاحتی قصبے میں ایک تنہا بندوق بردار کے 35 افراد کو قتل کرنے کے بعد سے آسٹریلیا میں بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات خال ہی ہوئے  ہیں۔

تحقیقی ادارے آسٹریلیا انسٹی ٹیوٹ  کی رواں سال کے آغاز میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ملک کا 'اسلحہ ملکیت نظام'   دنیا میں فی کس  مسلح  قتل کی کم ترین  شرح والا نظام قبول کیا جاتا  ہے۔

لیکن قانون کی رُو سے  رکھے جانے والے ہتھیاروں کی تعداد دو دہائیوں سے مسلسل بڑھ رہی ہے اور اب چار ملین تک پہنچ کر 1996 کے کریک ڈاؤن سے پہلے والی تعداد سے بھی زیادہ ہو گئی ہے ۔

نیو ساؤتھ ویلز پولیس کمشنر میل لینن نے صحافیوں کو بتایا  ہےکہ موجودہ حالات کے مطابق، ایک ملزم کے پاس موجو لائسنس اسے وہ ہتھیار رکھنے کا حق دیتا تھا جو اس نے رکھے ہوئے تھے۔

سوِن برن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں مجرم شناسی کی لیکچرار مایا گو میز نے کہا  ہےکہ نیو ساؤتھ ویلز میں اسلحہ لائسنس رکھنے والوں کو پہلے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ہتھیار کی حقیقی ضرورت موجود ہے۔

گو میز نے ایک ای میل میں کہا ہے کہ بونڈی فائرنگ کے بعد  اس بات پرسوال پیدا  ہو سکتے ہیں کہ فراہم کردہ حقیقی وجہ مقدار کے اعتبار سے کیا تھی؟ نیز ان وجوہات سے متعلقہ سوال کہ کس قسم کے رجسٹر شدہ ہتھیار استعمال کیے گئےہیں۔

جرم کی سطح کم

اگرچہ آسٹریلیا میں ہتھیاروں کی تعداد بڑھ رہی ہے، مگر ہتھیاروں سے متعلقہ جرائم عالمی اعدادوشمار کے لحاظ سے کم ہیں۔ آسٹریلیا انسٹی ٹیوٹ آف کرائمولوجی کے تازہ شائع شدہ اعداد و شمار کے مطابق جون 2024 تک اسلحے کے نتیجے میں قتل ہونے والے آسٹریلوی شہریوں کی تعداد سالانہ   33  افراد تھی۔

بیماریوں کی روک تھام اور سدّباب کے مرکز  'سی ڈی سی' کے مطابق اس کا موازنہ امریکہ سے کریں تو 2023 تک اسلحے کے استعمال سے قتل ہونے والے افراد کی تعداد یومیہ  اوسطاً 49 رہی ہے۔

'پورٹ آرتھر قتل عام' کے نام سے پہچانے جانے والے واقعے نے  وسیع اصلاحات کو جنم دیا جنہیں طویل عرصے تک عالمی سطح پر بہترین معیاروں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔

ان  اصلاحات میں اسلحہ واپس لینے کا پروگرام، قومی اسلحہ رجسٹریشن اور نیم خودکار اسلحے کی ملکیت  سے متعلق سخت تدابیر شامل تھیں۔