چین: واحد بچہ پالیسی کی سربراہ عوامی غم و غصے کی زد میں
چین میں واحد بچہ پالیسی کی سابقہ سربراہ انتقال کر گئیں۔ عوام نے خراجِ تحسین کی بجائے مذّمتی بیانات کی بوچھاڑ کر دی
چین میں واحد بچہ پالیسی کی سابقہ سربراہ کی وفات کو خراجِ تحسین کے بجائے مذّمتی بیانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
چین سرکاری ذرائع ابلاغ نے، 1988 سے 1998 تک چین خاندانی منصوبہ بندی کمیشن کی سربراہ 'پینگ پےیون' کی وفات پر انہیں "ایک ممتاز رہنما" قرار دیا ہے۔
ایک شخص نے چین کے مقبول مائیکروبلاگ 'ویبو' پر شیئر کردہ پوسٹ میں کہا ہے کہ "بریدہ جسموں والے برہنہ بچے اگلے جہان میں تمہارے منتظر ہیں"۔
چین کی 1980 سے 2015 تک نافذ العمل واحد بچہ پالیسی نے مقامی حکام کو زچہ کے اسقاطِ حمل اور بانجھ کاری پر مجبور کر دیا تھا۔
بیجنگ نے ملکی رہنماوں کی طرف سے ملکی آبادی میں اضافے کے بے قابو ہوسکنے کے خدشے کے بعد ملک میں واحد بچہ پالیسی نافذ کر دی تھی۔
تاہم چین ایک طویل عرصے تک، آبادی کے لحاظ سے، دنیا کا بڑا ترین ملک رہا ہے۔ بعد ازاں آبادی میں اضافے کی رفتار سست ہوگئی اور گذشتہ سال سے اوپر تلے تیسرے سال آبادی میں کمی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ویبو پر ایک اور پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ "اگر ایک بچہ پالیسی کے نفاذ کا دورانیہ دس سال سے کم ہوتا تو چین کی آبادی اس طرح کم نہیں ہو سکتی تھی!"
2023 میں چین 1.39 ارب آبادی کے ساتھ بھارت سے پیچھے رہ گیا ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ آئندہ سالوں میں یہ گرتا ہوا رجحان مزید تیز ہو جائے گا۔ 2025 کے مردم شماری اعداد و شمار اگلے مہینے جاری کیے جائیں گے۔
بحیثیت خاندانی منصوبہ بندی کی سربراہ کے 'پینگ' نے اپنے کمیشن کی توجہ دیہی علاقوں پر مرکوز رکھی۔
کسی زمانے میں چین کے دیہی علاقوں میں بڑے خاندان، بڑھاپے میں اچھی دیکھ بھال کے خواہش مند جوڑوں کا، ہدف بن گئے تھے۔ نسل کے دوام کے حوالے سے لڑکے کی پیدائش کو ترجیح دی جاتی تھی ۔ اس چیز نے مسترد کی گئی بچیوں اور اسقاط حمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جنینوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا تھا۔
ایک شخص نے ویبو پر لکھا ہے کہ "وہ بچے، اگر پیدا ہو گئے ہوتے، تو تقریباً 40 سال کےیعنی اپنی زندگی کے عروج پر ہوتے۔"
2010 کی دہائی تک پینگ نے رائے عامہ کے سامنے اپنے خیالات کا اور واحد بچہ پالیسی میں نرمی کی ضرورت کا ذکر کیا تھا۔ اب بیجنگ ، مسلسل گرتی ہوئی شرحِ پیدائش کو بچوں کی نگہداشت کے لئے سہولیات ، زچگی کی لمبی چھٹیاں اور ٹیکسوں میں چھُوٹ دے کر بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
آبادی میں کمی نے بوڑھوں کی تعداد میں اضافے کے خدشات بھی بڑھا دیئے ہیں ۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت محنتی افراد کی کمی کے باعث مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔ بزرگوں کی دیکھ بھال اور ریٹائرمنٹ مراعات کے بڑھتے ہوئے اخراجات بھی پہلے سے مقروض مقامی حکومت کے بجٹ پر اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔