سیاست
3 منٹ پڑھنے
ٹرمپ: امریک-ایران کے درمیان جنگ بندی اور ہرمز کی ناکہ بندی کا خاتمہ اگلے ہفتے ممکن ہے
حزبِ اللہ نے امریکی پیش کش قبول کر لی ہے جس کے تحت وہ اسرائیل پر حملے روک دے گا اور اس کے بدلے میں اسرائیل جنوبی بیروت پر حملے بند کرے گا
ٹرمپ: امریک-ایران کے درمیان جنگ بندی اور ہرمز کی ناکہ بندی کا خاتمہ اگلے ہفتے ممکن ہے
ٹرمپ کا ایران کے ساتھ اہم ترین معاہدے کا اشارہ، جبکہ "اگلے ہفتے" آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جنگ بندی کے مذاکرات ہوں گے / AFP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ"اگلے ہفتے کے اندر" جنگ بندی میں توسیع اورآبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر ایک معاہدہ کر لیں گے۔

انہوں نے اے بی سی نیوز کو فون پر گفتگو میں کہا کہ "پیش رفت اچھی دکھائی دے رہی ہے۔"آج تھوڑی سی رکاوٹ تھی، مگر میں نے اسے فوراً درست کر دیا، جیسا کہ آپ نے شاید پہلے محسوس کیا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وہ "رکاوٹ" اس وجہ سے تھی کہ ایرانی لبنان پر اسرائیل کے حملوں سے ناخوش تھے۔

تو میں نے حزبِ اللہ سے بات کی اور کہا کوئی فائرنگ نہیں، اور میں نے بنیامین نتن یاہوسے بات کی اور کہا کوئی فائرنگ نہیں، اور دونوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ بند کر دی۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ "فوجی فتح سے بھی بہتر" ہو سکتا ہے۔

"یہ آسان بات نہیں ہے،" انہوں نے کہا۔ " ہم ایک بہت بڑی قوم  یعنی  وہ  ایک بہت بڑی قوم کے ساتھ معاملہ کر رہے ہیں۔ ۔

"اس لیے ان کے لیے یہ آسان نہیں ہے۔ درحقیقت ہماری نظر سے بھی یہ آسان نہیں ہے۔ لیکن ہم وہ حاصل کر رہے ہیں جو ہمیں حاصل کرنا ہے۔"

جہاں تک جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مفاہمتی یادداشت کب مکمل اور متفقہ ہو گی، ٹرمپ نے کہا: "میرا خیال ہے کہ ہم  اگلے ہفتے کے اندر بات کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ انہوں نے ابھی اس پر حتمی رضا مندی نہیں دی کیونکہ "مجھے ابھی چند نکات حاصل کرنے ہیں"

بیروت کے لیے کوئی فوج نہیں جائے گی

پیر کے روز لبنان نے کہا کہ حزبِ اللہ نے امریکی پیش کش قبول کر لی ہے جس کے تحت وہ اسرائیل پر حملے روک دے گا اور اس کے بدلے میں اسرائیل جنوبی بیروت پر حملے بند کرے گا، یہ بیان اس کے بعد آیا کہ ٹرمپ نے گروپ کے ساتھ ’بہت اچھی کال‘ رپورٹ کی تھی۔

اس انتظام کے تحت، جسے حزبِ اللہ نے قبول کر لیا ہے، واشنگٹن میں لبنانی سفارت خانے کے ایک بیان کے مطابق جو لبنانی صدارت نے شیئر کیا، “دہیہ” — بیروت کے جنوبی مضافات — پر اسرائیلی حملے بند ہو جائیں گے، اس کے بدلے حزبِ اللہ اسرائیل کے خلاف حملے نہیں کرے گا۔

اسرائیل نے پیر کو لبنانی دارالحکومت کے جنوبی مضافات پر دوبارہ حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

لبنان میں اسرائیل کی بڑھتی کشیدگی، جس میں بھاری بمباری اور دو دہائیوں میں اس کی سب سے گہری زمینی مداخلت شامل ہے، نے مشرقِ وسطیٰ کی وسیع جنگ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل اور حزبِ اللہ کو کشیدگی کم کرنے پر راضی کیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنی ٹروتھ سوشل نیٹ ورک پر کہا کہ "بیروت کی طرف کوئی فوج نہیں جائے گی، اور جو فوجیں راستے میں تھیں وہ پہلے ہی واپس موڑ دی گئی ہیں۔

 اسی طرح، اعلیٰ سطح کے نمائندوں کے ذریعے، میری حزبِ اللہ کے ساتھ بھی بہت اچھی  بات چیت ہوئی ہے، اور انہوں نے اتفاق کیا کہ تمام فائرنگ بند ہو جائے گی — اسرائیل اُن پر حملہ نہیں کرے گا، اور وہ اسرائیل پر حملہ نہیں کریں گے۔

دریافت کیجیے
ٹرمپ: ہم ایردوان کے ساتھ ایف-35 کے معاملے پر بات کریں گے
ترک وزیر خارجہ فیدان: یورپی سلامتی کو یورپی یونین تک محدود نہیں کیا جا سکتا
فیدان  کے انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل امریکی سینیٹرز سے مذاکرات
یورپ انقرہ میں نیٹو اجلاس کو ٹرمپ کو اجتماعی دفاع میں اپنی دلچسپی دکھانے کا ،مظاہرہ کرے گا: جرمنی
انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل پوتن اور ٹرمپ کی یوکرین کے معاملے پر بات چیت
اسرائیل حکومت اپنی بگڑتی ساکھ کو بچانے کے لیے نئے دشمن کی متلاشی ہے، ترک وزیر خارجہ
روس اور امریکہ پر  عظیم جوہری طاقتیں ہونے کے ناطے عالمی سلامتی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، پوتن
ایردوان اور میلونی نے انقرہ نیٹو سمٹ سے قبل دفاعی روابط پر بات چیت کی
یوکرین سے ایران تک: نیٹو انقرہ سمٹ میں زیر غور آنے والے ممکنہ موضوعات کا جائزہ
نیٹو سیکریٹری جنرل: "ترکیہ میثاق کی سب سے طاقتور افواج میں سے ایک ہے"
امریکہ نے اسرائیل اور لبنان امن  معاہدے کے فریم کی تفصیلات جاری کر دیں
میلونی: ٹرمپ کے تبصروں سے مجھے ' سخت حیرانگی' ہوئی ہے
امریکہ اور ایران نے سوئٹزرلینڈ میں اعلی سطحی مذاکرات مکمل کر لیے ہیں، ثالث ممالک
وٹکوف اور عراقچی اسرائیل کے لبنان پر قبضے کے دوران سویٹزرلینڈ میں مذاکرات کے لیے جا رہے ہیں
ممکن ہے کہ نیتن یاہو ٹرمپ کے ایران امن معاہدے کو خطرے میں ڈال دے: امریکی انٹیلی جنس
امریکہ اور ایران کے درمیان مقرر کردہ مذاکرات میں تاخیر
امریکہ-ایران معاہدے سے متعلق تیکنیکی مسائل تا حال حل نہیں ہوئے: ترک وزیر خارجہ
2022 کا استنبول یوکرین معاہدہ مغربی مداخلت کی وجہ سے بگڑا، روس کا دعوٰی
امریکہ-ایران امن معاہدے کے باوجوداسرائیلی فوج لبنان میں طویل المدت قبضے کی تیاری کر رہی ہے — رپورٹ
لبنان میں جنگ کا خاتمہ ایران کی جنگ کے خاتمے کے لیے 'لازمی شرط' ہے: وزیر خارجہ عراقچی