اسرائیل نےجنگ بندی کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے غزہ میں مزید تین فلسطینیوں کو ہلاک کردیا
اسرائیل نے شجاعیہ کے علاقے پر ڈرونز سے حملہ کیا، جس میں تین نوجوان فلسطینی ہلاک ہوئے اور متعدد زخمی ہوئے۔
طبی ذرائع کے مطابق اسرائیل نے مشرقی غزہ سٹی اور شمالی غزہ میں الگ الگ حملوں میں تین فلسطینیوں کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کیا، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔
ذرائع نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ تین نوجوانوں کی لاشیں وسطی غزہ سٹی کے اہلِ عرب ہسپتال منتقل کی گئی جو شہر کے مشرق میں واقع شجاعیہ کی شاہراہ مشتاحہ میں ایک ڈراون حملے کا نشانہ بنے تھے۔
ایک دوسرے حملے میں، ایک اسرائیلی ڈرون کی طرف غزہ سٹی کے مشرق میں واقع تفاح محلے میں ایک گرینیڈ گرانے سے چار فلسطینی زخمی ہو گئے۔
زخمیوں کو شہر کے مرکز میں السرایا چوک میں واقع فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے فیلڈ ہسپتال میں زیر علاج لے لیا گیا۔
اسرائیلی افواج کے جبلّیہ قصبے میں بے گھر افراد کے حلاوا کیمپ کی طرف فائر کھولنے سے ایک بچے کو درمیانے درجے کے زخم آئے۔
فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ نشانہ بنائے گئے علاقوں میں وہ علاقے شامل ہیں جو اس وقت اس علاقے میں اسرائیلی افواج کے زیر کنٹرول زون سے باہر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اب بھی غزہ کے 50 فیصد سے زیادہ حصے پر قابض ہے۔
اسرائیلی افواج نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو توپ خانے کی فائرنگ اور گن فائر کے ذریعے روزانہ جاری رکھا ہوا ہے۔
گزشتہ اکتوبر میں فائر بندی کے نفاذ کے بعد سے کم از کم 651 فلسطینی ہلاک اور 1,741 زخمی ہو چکے ہیں۔
اسرائیل نے 8 اکتوبر 2023 کو غزہ پر نسل کشی شروع کی، جو دو سال تک جاری رہی اور بعد ازاں مختلف شکلوں میں جاری ہے۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی میں اندازاً 73,000 سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں، 172,000 دیگر زخمی ہوئے، اور پٹی کا 90 فیصد شہری بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں حقیقی اموات کی تعداد باضابطہ رپورٹوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔