امریکہ خطے میں جو چاہے تعینات کر لے ہم خوفزدہ نہیں ہونگے:ایران
ایران کے سینئر سفارت کار نے واشنگٹن کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تہران حالیہ امریکی بحری تنصیبات کی خطے میں تعیناتی سے “خوفزدہ” نہیں ہوگا
ایران کے سینئر سفارت کار نے واشنگٹن کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تہران حالیہ امریکی بحری تنصیبات کی خطے میں تعیناتی سے “خوفزدہ” نہیں ہوگا۔
تہران میں ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران امریکی فوجی اور سفارتی دباؤ میں اضافے کے باوجود اپنے ایٹمی عزائم خصوصاً یورینیم افزودگی کے پروگرام کو کم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
وزیر خارجہ کے بیانات اس ملاقات کے صرف دو دن بعد سامنے آئے جو عمان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ ہوئی تھی۔
بالواسطہ بات چیت کے بعد وٹکوف نے یو ایس ایس ابراہیم لنکن پر بھی دورہ کیا، جو حال ہی میں امریکی فوجی تعیناتی کے سلسلے میں اس خطے میں موجود ایک طیارہ بردار جہاز ہے۔
عراقچی نے تاہم بحری مشقوں کو غیر مؤثر قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی خطے میں فوجی تعیناتی ہمیں ڈراتی نہیں، ایٹمی پروگرام مذاکراتی شے نہیں بلکہ قومی خودمختاری کا معاملہ ہے۔
عراقچی نے اشارہ دیا کہ تہران اپنے جوہری انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے انتہائی نتائج بشمول مسلح تنازعہ کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ملک نے اپنے “پر امن ایٹمی پروگرام” کے لیے پہلے ہی “بہت بھاری قیمت” ادا کی ہے اور اب پیچھے نہیں ہٹے گا۔
عراقچی نےکہا کہ ہم افزودگی پر اتنا زور کیوں دیتے ہیں اور اسے چھوڑنے سے انکار کرتے ہیں چاہے ہمارے خلاف جنگ مسلط ہی کیوں نہ کی جائےکیونکہ کسی کو ہمارا رویہ متعین کرنے کا حق حاصل نہیں۔”
2018 میں امریکہ نے مشترکہ جامع ایکشن پلان (JCPOA) سے انخلا اختیار کیا، جس نے “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی مہم کو جنم دیا اور تہران کے ساتھ 2015 کے اس تاریخی معاہدے کو مؤثر طور پر ختم کر دیا۔
جون 2025 میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب اسرائیل نے پچھلے جون میں ایران کے خلاف بمباری مہم چلائی جس نے 12 روزہ جنگ کو جنم دیا، جبکہ امریکی بمباروں نے آپریشن مڈنائٹ ہیمر کے تحت ایران کے جوہری مراکز کو نشانہ بنایا۔