مشرق وسطی
2 منٹ پڑھنے
امریکہ خطے میں جو چاہے تعینات کر لے ہم خوفزدہ نہیں ہونگے:ایران
ایران کے سینئر سفارت کار نے واشنگٹن کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تہران حالیہ امریکی بحری  تنصیبات کی خطے میں تعیناتی سے “خوفزدہ” نہیں ہوگا
امریکہ خطے میں جو چاہے تعینات کر لے ہم خوفزدہ نہیں ہونگے:ایران
ایران-امریکہ / AP

ایران کے سینئر سفارت کار نے واشنگٹن کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تہران حالیہ امریکی بحری  تنصیبات کی خطے میں تعیناتی سے “خوفزدہ” نہیں ہوگا۔

تہران میں ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران امریکی فوجی اور سفارتی دباؤ میں اضافے کے باوجود اپنے ایٹمی عزائم خصوصاً یورینیم افزودگی کے پروگرام کو کم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

وزیر خارجہ کے بیانات اس ملاقات کے صرف دو دن بعد سامنے آئے جو عمان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ ہوئی تھی۔

بالواسطہ بات چیت کے بعد وٹکوف نے یو ایس ایس ابراہیم لنکن پر بھی دورہ کیا، جو حال ہی میں امریکی فوجی تعیناتی کے سلسلے میں اس خطے میں موجود ایک طیارہ بردار جہاز ہے۔

عراقچی نے تاہم بحری مشقوں کو غیر مؤثر قرار دیا۔

انہوں نے کہا  کہ ان کی خطے میں فوجی تعیناتی ہمیں ڈراتی نہیں، ایٹمی پروگرام مذاکراتی شے نہیں بلکہ قومی خودمختاری کا معاملہ ہے۔

عراقچی نے اشارہ دیا کہ تہران اپنے جوہری انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے انتہائی نتائج بشمول مسلح تنازعہ کے لیے تیار ہے۔

 انہوں نے زور دیا کہ ملک نے اپنے “پر امن ایٹمی پروگرام” کے لیے پہلے ہی “بہت بھاری قیمت” ادا کی ہے اور اب پیچھے نہیں ہٹے گا۔

 عراقچی نےکہا  کہ ہم افزودگی پر اتنا زور کیوں دیتے ہیں اور اسے چھوڑنے سے انکار کرتے ہیں چاہے ہمارے خلاف جنگ مسلط ہی کیوں نہ کی جائےکیونکہ کسی کو ہمارا رویہ متعین کرنے کا حق حاصل نہیں۔”

2018 میں امریکہ نے مشترکہ جامع ایکشن پلان (JCPOA) سے انخلا اختیار کیا، جس نے “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی مہم کو جنم دیا اور تہران کے ساتھ 2015 کے اس تاریخی معاہدے کو مؤثر طور پر ختم کر دیا۔

جون 2025 میں کشیدگی  اس وقت بڑھ گئی جب اسرائیل نے پچھلے جون میں ایران کے خلاف بمباری مہم چلائی جس نے 12 روزہ جنگ کو جنم دیا، جبکہ امریکی بمباروں نے آپریشن مڈنائٹ ہیمر کے تحت ایران کے جوہری مراکز کو نشانہ بنایا۔

 

دریافت کیجیے
اتحادی افواج کا یمن میں  آپریشن، حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے
"مکہ معاہدہ" سیکریٹری جنرل نعمان محمود ہونگے
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک
یمنی فوج کے حوثیوں کے اہم مراکز پر حملے
حکومتِ یمن: "طائز میں حوثیوں کے ساتھ گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے"
اسرائیل کا حملہ، صحافی النجار ہلاک
فلائی دبئی : پائلٹوں کی لڑائی کی وجہ سے پرواز سعودی عرب میں اتر گئی
اسرائیل کا فضائی حملہ، تین فلسطینی ہلاک
ایرانی میڈیا: "ایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں"
ایران کی امریکہ کو آبنائے ہرمز کو 7 دنوں کے اندر دوبارہ کھولنے کے لیے ایک نئی تجویز
ایران: "اگر امریکی حملے جاری رہیے تو ہم تنازع کو بحر ہند تک پھیلا دیں گے"
وزیر فیدان نے ترکیہ-شام-سعودی عرب وزرائے خارجہ اجلاس کی میزبانی کی
ایرانی اسپیکر "ٹرمپ کو ایک بنیادی تہذیب، قومی اور مذہبی مزاحمت کا سامنا ہے"
ایران نےمذاکرات میں دوبارہ شامل ہونے کا شرط نامہ پیش کردیا
اسرائیل کا غزہ پر حملہ، چار فلسطینی ہلاک
ایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی   اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
ایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی،  لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
امریکہ نے محمود عباس کو ویزہ دینے سے انکار کر دیا
امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بعد بھاری نقصانات کی اطلاع
ایران: ہم نے جزیرہ قشم  کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرا دیا ہے