امریکی دفاعی کمان نے گرین لینڈ میں طیارے اتار دیئے
نارتھ امریکن ایروسپیس ڈیفنس کمانڈ (NORAD) نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے گرین لینڈ کے پیٹوفک فوجی اڈے پر طیارے بھیجے ہیں کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خود مختار ڈنمارک کی اس سرزمین کو حاصل کرنے کی کوششوں کے باعث کشیدگی بڑھ گئی ہے
نارتھ امریکن ایروسپیس ڈیفنس کمانڈ (NORAD) نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے گرین لینڈ کے پیٹوفک فوجی اڈے پر طیارے بھیجے ہیں کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خود مختار ڈنمارک کی اس سرزمین کو حاصل کرنے کی کوششوں کے باعث کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
نارتھ امریکن ایروسپیس ڈیفنس کمانڈ نے X پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ امریکی طیارے جلد ہی گرین لینڈ کے پیٹوفک اسپیس بیس پہنچیں گے۔
NORAD نے کہا کہ یہ تعیناتی طویل المدتی طے شدہ سرگرمیوں کا حصہ ہے جو امریکہ ، کینیڈا اور ڈنمارک کے درمیان دفاعی تعاون کو قائم اور مضبوط کرتی ہیں۔
کمانڈ نے کہا کہ اس تعیناتی کا ہم آہنگی سے ڈنمارک کے ساتھ اشتراک کیا گیا ہے اور تمام افواج مناسب سفارتی منظوریوں کے تحت عمل پیرا ہیں۔
یہ بھی معلوم ہواہے کہ گرین لینڈ کو متوقع آپریشنز کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق یہ طیارے شمالی امریکہ کے دفاع کے لیے معمول کے آپریشنز کریں گے۔
پیٹوفک اسپیس بیس،جسے پہلے تھول ایئر فورس بیس کے نام سے جانا جاتا تھا، شمال مغربی گرین لینڈ میں ایک امریکی فوجی تنصیب اور مواصلاتی مرکز کے طور پر کام کرتا ہے اور وہاں ایک میزائل وارننگ سسٹم نصب ہے۔
گرین لینڈ جو تاج ِڈنمارک کاایک خود مختار علاقہ ہے، اپنے اسٹریٹجک آرکٹک محل وقوع ، معدنی وسائل اور روسی و چینی موجودگی کے حوالے سے ٹرمپ کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔
ڈنمارک اور گرین لینڈ دونوں نے اس سرزمین کی منتقلی کی کسی بھی تجویز کو مسترد کر دیا ہے اور جزیرے پر ڈنمارک کی خودمختاری کی تصدیق کی ہے۔