عیسی مسیح کے علامتی مجمسے کی بے حرمتی کی ہے:اسرائیلی فوج کا اعتراف

یہ اعتراف اس ویڈیو پر وسیع غصے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایک فوجی کو دیر سیرین کے قصبے میں حضرت عیسیٰ مسیح کے مجسمے کے سر کو ہتھوڑے سے توڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے

By
لبنان-اسرائیل / Reuters

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی لبنان میں اس کے ایک فوجی نے  مسیحی علامت کو نقصان پہنچایا ہے۔

یہ اعتراف اس ویڈیو پر وسیع غصے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایک فوجی کو دیر سیرین کے قصبے میں حضرت عیسیٰ مسیح کے مجسمے کے سر کو ہتھوڑے سے توڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے یہ تعین کیا ہے کہ اس واقعے میں جنوبی لبنان میں تعینات ایک فوجی ملوث تھا۔

 واضح رہے کہ اسرائیلی فوج کا اصرار  رہا ہے کہ اس کا شہری ڈھانچے بشمول مذہبی عمارتوں یا مذہبی علامات کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

جبکہ فوج کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تفتیش ناردرن کمانڈ کی جانب سے کی جا رہی ہے البتہ  اس نے فوجی کی شناخت یا مخصوص تادیبی اقدامات کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

امریکہ کی سابق کانگریس خاتون مارجوری ٹیلر گرین نے اس خبر پر سخت ردعمل دیتے ہوئے "ہمارے سب سے بڑے اتحادی" کی حیثیت پر سوال اٹھایا جو اربوں ڈالر کا ٹیکس اور اسلحہ حاصل کرتا ہے۔

امریکی میڈیا کی نمایاں شخصیت ریان گریم نے کہا کہ اسرائیلی فوجی ڈھائی سال سے مسلسل بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی جنگی جرائم اور ثقافتی بے حرمتی کی تصاویر پوسٹ کر رہے ہیں۔"

معروف انتہائی دائیں بازو کے مبصر اور سابق کانگریس مین میٹ گیٹز نے اسرائیلی اقدام کو "ہولناک" قرار دیا۔

لبنانی میڈیا نے اسی ضلع کے گاؤں عین ایبل میں ایک اور مسیحی مقام کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی حملوں نے جنوبی لبنان میں متعدد مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں ضلع صور کا گاؤں شمعا بھی شامل ہے۔

2 مارچ سے اب تک لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 2,294 افراد ہلاک اور 10 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔