چین، روس، ایران اور پاکستان نے افغانستان میں امریکی فوجی اڈوں کی مخالفت کر دی
چار ممالک نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دائرہ کار میں نیویارک میں ہونے والی چہار رکنی اجلاس میں افغانستان کی قیادت اور اس کی زمینی سالمیت پر زور دیا۔
چینی وزارت خارجہ نے جمعہ کو کہاہے کہ چین، روس، ایران اور پاکستان نے جنگ زدہ افغانستان میں فوجی اڈے دوبارہ قائم کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کی ہے۔
یہ مخالفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عبوری طالبان انتظامیہ سے کہا کہ وہ بگرام ایئر بیس کو پینٹاگون کے حوالے کر دے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے بیجنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ چار ممالک کے وزرائے خارجہ اور نمائندوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر افغانستان کے حوالے سے ایک غیر رسمی ملاقات کی۔
گو نے کہا کہ چار فریقی اجلاس کے مشترکہ بیان میں افغانستان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا گیا ۔
ترجمان نے کہا کہ بیان میں ان ممالک کی طرف سے افغانستان اور خطے میں فوجی اڈے دوبارہ قائم کرنے کی سخت مخالفت کا اعادہ کیا گیا جو ملک کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔
اجلاس میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، افغانستان کے لیے چینی نمائندہ یو شیاؤیونگ، اور پاکستانی سینئر سفارتکار عمر صدیق نے شرکت کی۔
وزارت خارجہ کے ترجمان گو نے کہا، یہ مکمل طور پر ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک اس کی خودمختاری، آزادی اور قومی وقار کا کتنا احترام کرتے ہیں۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر طالبان انتظامیہ بگرام ایئر بیس کا کنٹرول پینٹاگون کے حوالے نہ کرے تو "برےنتائج" سامنے آئیں گے۔
طالبان اگست 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آئے جب امریکی قیادت میں غیر ملکی افواج نے دو دہائیوں پر محیط جنگ کے بعد افغانستان سے مکمل انخلا کیا۔
کابل نے اپنی علاقائی سالمیت پر مذاکرات سے انکار کر دیا ہے اور ٹرمپ سے 2020 کے دوحہ معاہدے پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔