سیاست
3 منٹ پڑھنے
ٹرمپ نیتن یاہو کی ترکیہ کو F-35 کی فروخت کی مخالفت پر طیش میں ہیں: رپورٹ
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی صدر اسرائیلی دباؤ کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ ایران کی پالیسی پر اختلافات میں اضافہ ہوا ہے۔
ٹرمپ نیتن یاہو کی ترکیہ کو F-35 کی فروخت کی مخالفت پر طیش میں ہیں: رپورٹ
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ کا ماننا تھا کہ نیتن یاہو کو ترکیہ کو ایف-35 کی مجوزہ فروخت میں مداخلت کا "کوئی حق نہیں" تھا۔ [فائل] / Reuters

ایک ایگزیکٹو رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کی ترکیہ کو F-35 لڑاکا طیارے کی ممکنہ فروخت پر سخت تنقید سے ناراض ہو گئے، جو دونوں اتحادی ممالک کے درمیان کشیدگی کی تازہ علامت ہے۔

رپورٹ  میں وائٹ ہاؤس کے دو عہدیداروں کے حوالے سے بتایا  گیا ہے کہ نیٹو سربراہی اجلاس کے لیے 7-8 جولائی کو ٹرمپ کے انقرہ جانے سے قبل،  نیتن یاہو کی فاکس نیوز  سے انٹرویو میں اس ممکنہ فروخت پر تنقید کرنے کے بعد ٹرمپ  نے 'ناراضگی' کا اظہار کیا تھا۔

ایک عہدیدار کے مطابق ٹرمپ کا ماننا تھا کہ نیتن یاہو کو مجوزہ ہتھیاروں کے معاہدے میں عوامی طور پر مداخلت کرنے کا 'کوئی حق'  حاصل نہیں تھا، جبکہ ایک اور نے کہا کہ ان تبصروں نے دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔

یہ رپورٹ اسی وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے حال ہی میں ایسے اشارے دیے کہ واشنگٹن ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعلقات بحال کرنے کے لیے تیار ہے، جس میں انقرہ کے روسی S-400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری پر عائد پابندیاں اٹھانا اور F-35 طیاروں پر مذاکرات دوبارہ   شروع کرناشامل ہیں۔

ٹرمپ-نیتن یاہو ملاقات شیڈولڈنہیں

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ، حالانکہ اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم اس ہفتے واشنگٹن کا سفر کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے ٹرمپ سے ملاقات کی درخواست کر رہے تھے، مگر وائٹ ہاؤس حکام نے کہا کہ کوئی ملاقات تصدیق شدہ نہیں تھی۔

ایک وائٹ ہاؤس اہلکار نے کہا 'ہمیں تاثر تھا کہ نتن یاہو   کسی ملاقات کا رنگ ڈالنے  کی کوشش کر رہے تھے۔'

بعد ازاں نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا کہ ان کا منصوبہ بند دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے جب تاخیر کی وجہ سے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی تدفین ملتوی کر دی گئی۔

ایران اور ترکیہ پر اختلافات میں گہرا فرق

یہ تنازع اس وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور نیتن یاہو کی حکومت کے درمیان ایران پالیسی اور ترکی کے ساتھ دفاعی تعلقات معمول پر لانے کی امریکی کوششوں پر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔

اسرائیلی حکام نےیہ استدلال کرتے ہوئے کہ یہ علاقائی فوجی توازن بدل سکتا ہے، کھل کر انقرہ کو کسی بھی F-35 فروخت کی مخالفت کی ہے، ، جبکہ ٹرمپ نے نیٹو کے اس حلیف کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی تعاون کی تعمیر نو کی حمایت کا اشارہ دیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی ذکر ہے کہ امریکی نائب صدر JD وینس کے حالیہ بیانات کے بعد یہ صورتِ حال سامنے آئی، جنھوں نے بدھ کو اشارہ دیا کہ اسرائیلی حکومت کے کچھ ارکان واشنگٹن کی تہران کے ساتھ سفارتی کوششوں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ فوجی کارروائی کو بڑھایا جا سکے۔

دریافت کیجیے
غزہ میں فلسطینیوں کی جانوں کو لاحق خطرہ بڑھ رہا ہے: اقوام متحدہ
روس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں 7 افراد ہلاک، علاقے میں حملوں میں شدت آئی ہے
اسرائیل نے تقریباً 650 مکانات پر مشتمل ایک اور غیر قانونی آبادکاری منصوبے پر کام شروع دیا
روس کا کیف پر حملہ،5 افراد ہلاک،متعدد زخمی
عراق نے  60 لاکھ اسلحے کے اندراج کے لیے ڈیٹا بیس تیار کرلیا
"ڈرون میزائل دھماکہ " مولدووا نے روس سے اپنا سفیر واپس بلالیا
فلپائن میں بارشوں اور لرزشِ اراضی سے 12 افراد ہلاک، 8 لاپتہ
کویت کی طرف سے پاکستان کو مبارکباد
چین: ڈولفن طوفان کے باعث 1.5 ملین سے زائد افراد بے گھر
ایرانی وزیر خارجہ: "ہم فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کر رہے"
ہندوستان کے ریاست آسام میں سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد 100 تک پہنچ گئی
امریکہ اور کینیڈا میں تیز رفتار جنگلاتی آگ، متاثرہ علاقوں کے باسی انخلاء پر مجبور
میٹا کو ایک اور مقدّمے کا سامنا
سعودی عرب،16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
نگاساکی ایٹم بم کی 81 ویں برسی