سعودی عرب: امریکہ ہُرمز سے ناکہ اٹھائے

امریکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرے اور ایران کے ساتھ مذاکرات کی میز پر واپس آئے: ریاض

By
سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستیں سفارت کاری کو ترجیح دیتی ہیں، اس امید پر کہ عالمی تیل کی ترسیل کے راستوں میں مزید خلل کو روکا جا سکے اور خطے میں مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔ / Reuters

سعودی عرب آبنائے ہُرمز کی ناکہ بندی اُٹھانے کے لئے امریکہ پر دباو ڈال رہا ہے۔امریکی اخبار 'دی وال اسٹریٹ جنرل' نے منگل کے روز شائع کردہ خبر میں  کہا ہے کہ سعودی عرب امریکہ پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرے اور ایران کے ساتھ مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔

جوابی کارروائی کا خوف: باب المندب خطرے میں

ریاض انتظامیہ کو اس بات کا شدید خدشہ ہے کہ امریکی اقدام کے نتیجے میں ایران آبنائے ہرمز سے آگے نکل کر جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔ خاص طور پر باب المندب کے نشانے پر آنے کا ڈر ہے۔ یہ راستہ  بحیرہ احمر میں  سعودی پیٹرولیم کی برآمدات کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

خبرمیں علاقائی معیشتوں کے لیے خطرات کی سنگینی کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے" خلیجی ممالک نہیں چاہتے کہ اس جنگ کا انجام  ان کی معیشت کی شہ رگ یعنی آبنائے ہُرمز کا کنٹرول ایران کے ہاتھ میں ہی رہنے کی شکل میں ہو"۔

خبر کے مطابق، واشنگٹن اور تہران کی جانب سے سخت عوامی بیانات کے باوجود، دونوں فریق ثالثوں کے ذریعے رابطے میں ہیں اور حالات سازگار ہونے کی صورت میں دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کا دروازہ کھلا رکھا ہوا ہے۔ خبرمیں مزید کہا گیا ہے کہ"سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک عالمی پیٹرولیم راستوں میں مزید خلل کو روکنے اور علاقائی کشیدگی کو گہرا ہونے سے بچانے کے لیے سفارت کاری کو بحال کرنے کی خاطر وقت کے خلاف دوڑ رہے ہیں۔"

اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہفتے کے آخر میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ ناکہ بندی پیر کے روز پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجےنافذ العمل ہو گئی۔ یہ مذاکرات امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان فروری کے آخر سے جاری ان جھڑپوں کو روکنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ تھے، جن میں اب تک پورے خطے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔