امریکہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کے بعد اسرائیل-لبنان مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے

جب سے حزبِ اللہ نے مارچ کے اوائل میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں شمولیت کی ہے اسرائیل کی طرف سے لبنان پر اب تک کی سب سے بھاری بمباری میں بدھ کے روز 300 سے زائد افراد  ہلاک  ہو گئے۔

By
محمد زین العابدین شہاب کا جنازہ، جو بدھ کو اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے، بیروت میں۔ / Reuters

امریکی محکمہ خارجہ  کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے  نازک امریکی-ایران جنگ بندی کو بگاڑ   سکنے کے  خدشات  کےبڑھنے  پر اسرائیل اور لبنان اگلے ہفتے واشنگٹن میں بات چیت کریں گے۔

جب سے حزبِ اللہ نے مارچ کے اوائل میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں شمولیت کی ہے اسرائیل کی طرف سے لبنان پر اب تک کی سب سے بھاری بمباری میں بدھ کے روز 300 سے زائد افراد  ہلاک  ہو گئے۔  جس سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کو اس کے نافذ ہونے کے 48 گھنٹوں سے بھی کم عرصے میں ہلچل کا سامنا کرنا پڑا۔

اس اہلکار نے جمعرات کو کہا کہ "ہم تصدیق کر سکتے ہیں کہ محکمہ اگلے ہفتے اسرائیل اور لبنان کے ساتھ جاری جنگ بندی مذاکرات پر بات چیت کے لیے ایک اجلاس کی میزبانی کرے گا۔"  یہ سفارتی کوششوں سے آگاہ  ایک  ماخذ کی پہلے کی اطلاع کی تصدیق تھی۔

اسرائیل کے سخت گیر وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعرات کو اپنے وزراء کو لبنان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات تلاش کرنے کا حکم دیا تھا، جس میں حزبِ اللہ کو ہتھیاروں سے پاک کرنے پر زور دیا گیا۔

لیکن نیتن یاہو کے اعلان کے بعد ایک لبنانی سرکاری اہلکار نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ بیروت کوئی بھی مذاکرات شروع کرنے سے پہلے جنگ بندی چاہتا ہے، یہ بیان لبنان بھر میں جاری  ہلاکت خیز حملوں کے ایک دن بعد آیا۔

ایک لبنانی سرکاری اہلکار  نے نام ظاہر نہ کرنے کی  شرط پر بتایا ہے کہ   لبنان مذاکرات شروع کرنے سے پہلے جنگ بندی چاہتا ہے۔

نہ تو اسرائیل اور نہ ہی لبنان نے اگلے ہفتے امریکی مذاکرات کی عوامی تصدیق کی ہے۔

لبنانی حکام نے کہا کہ بدھ کو ہونے والی بم باری میں کم از کم 303 افراد ہلاک اور 1,150 زخمی ہوئے، جب کہ حزبِ اللہ نے کہا کہ ایک دن بعد  وہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج کے خلاف  جنگ  میں مصروف تھا۔

اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایئل زامیر نے جمعرات کو لبنان کے اندر بری  فوجی دستوں کا معائنہ کیا اور انہیں بتایا کہ حزبِ اللہ کو ایک روز قبل  کےحملوں  میں "کاری ضرب" لگی ہے۔

نیتن یاہو کے دفتر کے ایک بیان کے مطابق حکومتِ لبنان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا حکم حزبِ اللہ کو غیر مسلح کرنے اور امن قائم کرنے پر مرکوز تھا، تاہم اس نے فضائی حملوں  میں  فوری وقفہ نہیں دیا۔

بعد ازاں حزبِ اللہ کے ایک قانون ساز نے اپنی تنظیم کی طرف سے "لبنان" اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست کسی بھی مذاکرات  کو  مسترد کرنے کا اعادہ کیا ہے۔

ناقابلِ تفریق

نیتن یاہو  کے بیان  کے ساتھ ہی، اسرائیل فوج نے بیروت کے جنوبی مضافات کو خالی کرنے کے لیے ایک نیا الٹی میٹم جاری کیا ہے۔

بعد ازاں جمعرات کو، اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ وہ لبنان میں حزبِ اللہ کی لانچ سائٹس کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اس نے اسرائیلی شہریوں کو بھی خبردار کیا کہ گروپ ممکنہ طور پر "آنے والے گھنٹوں" میں فائرنگ بڑھا سکتا ہے۔

اسلام آباد، برسلز، ماسکو اور انقرہ نے مطالبہ کیا کہ امریکہ-ایران جنگ بندی کو لبنان تک بھی بڑھایا جائے۔

جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ "ہم جنوبی لبنان کی صورتحال کو خاص طور پر تشویش ناک سمجھتے ہیں اوراس  اسرائیل کے پر تشدد حملے  امن عمل کو ناکام بنا  سکتے ہیں، ایسا ہونے نہیں دینا چاہیے۔"

 ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ تہران لبنان کو جنگ بندی کا "ناقابلِ تفریق حصہ" سمجھتا ہے اور صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اسرائیلی حملوں نے پاکستان میں ہفتے کے آخر میں امریکی مندوبین کے ساتھ طے پائے مذاکرات کو "بےمعنی" کر دیا ہے۔

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے تازہ تحریری پیغام میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ  ایران، امریکہ اور اسرائیل سے جنگ نہیں چاہتا لیکن وہ ایک قوم کے طور پر اپنے حقوق کا دفاع کرے گا۔

"یہاں پر  حزبِ اللہ کہاں ہے؟"

حزبِ اللہ نے کہا کہ اس نے جمعرات کو اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزی کے جواب میں اسرائیل کی طرف راکٹ داغے۔

لیکن اسرائیل اور امریکہ دونوں اصرار کرتے ہیں کہ لبنان میں لڑائی جنگ بندی میں شامل نہیں ہے۔

نیتن یاہو نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ"ہم حزبِ اللہ پر  درستگی اور عزم کے ساتھ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔"

"ہمارا پیغام واضح ہے: جو بھی اسرائیلی شہریوں کے خلاف کارروائی کرے گا، ہم اُس پر حملہ کریں گے۔ جہاں ضروری ہو ہم حزبِ اللہ کو نشانہ بنانا جاری رکھیں گے۔"

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں اپنی فتح کا دعویٰ کیا جب انہوں نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا تاکہ امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان بات چیت کے ذریعے اس تنازعے کو ختم کیا جا سکے جس نے پہلے ہی ہزاروں افراد ہلاک کیے اور عالمی معیشت کو بحران میں ڈالا۔

ٹرمپ نے NBC نیوز کو جمعرات کو بتایا کہ وہ جنگ بندی کے بعد ایران کے ساتھ امن معاہدے کے بارے میں "بہت پُر امید" ہیں، اور کہا کہ  اسرائیل لبنان میں حملوں کو "کم کر رہا" ہے۔

سِول ڈیفنس کے مطابق، بدھ کو لبنان پر حملوں کے بعد ملبے تلے کئی لاشیں اب بھی ہیں۔

اعلیٰ داؤ کے مذاکرات

اگر پاکستان میں مذاکرات آگے بڑھتے ہیں تو ایک کلیدی متنازعہ نکتہ آبنائے ہرمز ہے، جس کے ذریعے پر امن ماحول  میں دنیا کے تیل کا ایک پانچواں حصہ اور بڑی مقدار میں قدرتی گیس اور کھاد گزرتی ہے۔

ایران نے سمندری مائنز کے خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے جمعرات کو آبنا میں سفر کرنے والے جہازوں کے لیے متبادل راستوں کا اعلان کیا ۔