ترکیہ
2 منٹ پڑھنے
جزیرہ قبرص کےدو ریاستی حل کا بل اکثریتی ووٹوں سے منظور،ترکیہ کا خیر مقدم
ترک نائب صدر جودت یلماز نے ترک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا  کہ یہ فیصلہ ترک قبرصی عوام کی خودمختاری ، شناخت اور مستقبل کے تحفظ کے عزم کا ایک طاقتور مظہر ہے۔
جزیرہ قبرص کےدو ریاستی حل کا بل اکثریتی ووٹوں سے منظور،ترکیہ کا خیر مقدم
شمالی قبرصی ترک جمہوریہ / AA

ترکیہ نے شمالی قبرصی ترک جمہوریہ  کی پارلیمان کی جانب سے قبرص کے مسئلے کے دو ریاستی حل سے متعلق قرارداد کی منظوری کا خیر مقدم کیا ہے۔

ترک نائب صدر جودت یلماز نے ترک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا  کہ یہ فیصلہ ترک قبرصی عوام کی خودمختاری ، شناخت اور مستقبل کے تحفظ کے عزم کا ایک طاقتور مظہر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نصف صدی سے نتائج  کے حصول میں  ناکام وفاق کا ماڈل اب ختم ہو چکا ہے۔

یلماز نے ترک قبرصی عوام کے مستقبل، امن اور وقار کے لیے یہ موقف اختیار کرنے پر  شمالی قبرصی پارلیمانی اراکین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ جزیرے پر حقیقت پسندانہ، پائیدار اور منصفانہ حل صرف دو خودمختار اور مساوی ریاستوں کی بنیاد پر ممکن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترک قبرصی باشندوں کے حق خود ارادیت  اور اپنے مستقبل کا تعین کرنے کی خواہش   کی تکمیل کے لئے ترکیہ کی حمایت جاری رہے گی۔

 

 شمالی قبرصی ترک جمہوریہ  نے اس قرارداد کو اکثریتی ووٹوں سے منظور کیا ہے ۔

 قبرص یونانی  انتظامیہ  اور ترک قبرصی باشندوں  کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری تنازعہ  موجود ہے  حالانکہ اقوام متحدہ کی طرف سے ایک جامع حل کے لئے سفارتی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۔

 1960 کی دہائی کے اوائل میں شروع ہونے والے نسلی حملوں نے ترک قبرصی باشندوں کو اپنی حفاظت کے لیے  پس قدمی  پر مجبور کیا تھا۔

 1974 میں ، یونانی قبرصی بغاوت جس کا مقصد یونان کا جزیرے پر قبضہ کرنا تھا ، ترک قبرصی باشندوں کو ظلم و ستم اور تشدد سے بچانے کے لئے ایک ضامن طاقت کے طور پر ترکیہ   فوجی مداخلت کا باعث بنا۔ اس کے نتیجے میں ، شمالی قبرصی ترک جمہوریہ  کی بنیاد 1983 میں رکھی گئی تھی۔

حالیہ برسوں میں اس  پیش رفت نے امن عمل دیکھا ہے ، جس میں 2017 میں سوئٹزرلینڈ میں ضامن ممالک ترکیہ ، یونان اور برطانیہ کی سرپرستی میں ناکام اقدام بھی شامل ہے۔

 یاد رہے کہ یونانی قبرصی انتظامیہ 2004 میں یورپی یونین میں  شامل  ہوئی  ،اسی سال جب یونانی قبرصی باشندوں نے یک طرفہ طور پر  دیرینہ تنازعہ کو ختم کرنے کے لئے اقوام متحدہ کے منصوبے کو روک دیا تھا۔

دریافت کیجیے
آئی آر جی سی: ہم نے اردن میں امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا ہے
ہم، ایران۔امریکہ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے خواہش مند ہیں: فیدان
بحیرۂ کیسپین پائپ لائن کنسورشیم کے ٹرمینل پر دو آئل ٹینکروں پر حملے
جاپان: اب ہم ایٹمی موضوع پر "بات کرنے سے گریز نہیں کر سکتے"
اقوام متحدہ: غزہ کے بچوں میں تیزی سے خسرہ پھیل رہا ہے
یوکرین: روسی حملوں میں ایک شخص ہلاک اور 15 زخمی
امریکہ نے جزیرہ قشم کو بھی نشانہ بنایا
انگلینڈ نے فیفا ورلڈ کپ میں تیسری پوزیشن اپنے نام کر لی
آبنائے ہرمز پر کسی بھی ریاست کا دعوی خودمختاری "بین الاقوامی قانون کے خلاف" ہے
بھارت کا نجی خلائی دور وکرم-1 کے آغاز کے ساتھ شروع
ایران نے کویت کے بجلی اور پانی کی پلانٹس پر حملے کیے جبکہ بحرین نے ڈرون حملوں کو ناکام بنا دیا
عراقی وزیر اعظم نے دورہ امریکہ کے دوران 48 تجارتی معاہدے کر لیے
مشرقی ترکیہ میں ریکڑ اسکیل پر 5 کی شدت کا زلزلہ
یوکرین کے ڈراون حملے میں سات افراد ہلاک، 24 زخمی
ایران نے 7 راتوں سے جاری حملوں کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملے کیے