یورپی یونین: مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد کا درجہ"ناقابلِ قبول" ہے

مزید حملوں کو روکنے اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے "فوری اور مؤثر کارروائی" کی جائے۔ ایسی کاروائیوں کو سزا  سے بَری رکھنا تشدد کو بھڑکا سکتا ہے: یورپی یونین

By
مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کا تشدد غزہ میں جنگ کے آغاز سے شدت اختیار کر گیا ہے۔ / Reuters

یورپی یونین نے مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد کے درجےکو"ناقابلِ قبول"  قرار دیا اور فلسطینی شہریوں پر اضافی حملوں کے سدّباب کے لیے  اسرائیلی حکام سے  فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

یورپی یونین کے ایک ترجمان نے  کل بروز منگل جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 28 فروری سے غیرقانونی اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں کے نتیجے میں چھ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

بیان کے مطابق اس تشدد نے متعدد برادریوں کو متاثر کیا، املاک کو نقصان پہنچایا، روزگار کے ذرائع ختم کر دیئے  اور مکینوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا ہے۔  یورپی یونین نے اسرائیلی حکام پر زور دیا  ہےکہ مزید حملوں کو روکنے اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے "فوری اور مؤثر کارروائی" کی جائے۔ ایسی کاروائیوں کو  سزا  سے بَری رکھنا  تشدد کو بھڑکا سکتا ہے۔

یورپی یونین  نے اسرائیل سے  بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنے اور مقبوضہ علاقے میں فلسطینی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی تشدد

8 اکتوبر 2023 کو غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی تشدد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ علاقے میں اسرائیلی فوج اور غیرقانونی اسرائیلی آبادکاروں کے حملے فلسطینیوں کے قتل  ، غیر قانونی گرفتاریوں ، املاک کی تباہی،  گھروں کے انہدام ، جبری ہجرت  اور غیر قانونی رہائشی  بستیوں کی توسیع پر منتج ہو  رہے ہیں۔

 حملوں کے دوران  کم از کم 1,121 فلسطینیوں کو قتل اور 11,700 کو زخمی  کیا جا چُکا ہے۔ علاوہ ازیں   تقریباً 22,000 فلسطینیوں کو  گرفتار بھی کیا جا چُکا ہے۔

فلسطینیوں نے  خبردار کیا ہے کہ یہ خلاف ورزیاں اسرائیل  کی طرف سے مقبوضہ مغربی کنارے کےباضابطہ  الحاق کی راہ  ہموار کر سکتی ہیں۔ الحاق کی صورت میں  اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مجوزہ فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات  عملاً ختم  ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی برادری اور اقوامِ متحدہ، بشمول مشرقی القدس مغربی کنارے  کو مقبوضہ فلسطینی علاقہ سمجھتے ہیں اور یہاں موجود اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیرقانونی تصور کرتے ہیں۔