ایران کے خلاف جنگ آرمیگیڈن کو متحرک کرنے کے لیے خدا کا منصوبہ ہے، امریکی کمانڈر
200 سے زائد شکایات میں الزام لگایا گیا ہے کہ فوجی کمانڈروں نے ایران پر امریکی حملوں کومکاشفے میں موجود نبوتی پیشگوئی کا حصہ قرار دیا اور ٹرمپ کو الہی طور پر 'مسح کردہ' قرار دیا ہے۔
ایک امریکی مانیٹرنگ ادارے کو کی گئی 200 سے زائد شکایات کے مطابق، امریکی کمانڈر فوج کے ہر یونٹ میں امریکی فوجیوں کو بتا رہے ہیں کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا مقصد بائبل کی قیامت یا Armageddon (Malhame-i Kubra) کو متحرک کرنا ہے۔
ایک نان کُمیشنڈ افسر نے فوجی مذہبی آزادی فاؤنڈیشن کو ای میل کے ذریعے شکایت میں کہا ہے کہ "آج صبح ہمارے کمانڈر نے جنگی آمادگی کی صورتحال کی بریفنگ کا آغاز اس ترغیب کے ساتھ کیا کہ ہمیں ایران میں ہمارے جنگی آپریشنز کے بارے میں جو کچھ ہو رہا ہے ہمیں ان سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔"
’ انہوں نے ہم سے کہا کہ اپنے اہلکاروں کو بتائیں کہ" یہ سب 'خدا کے الٰہی منصوبے' کا حصہ ہے اور انہوں نے خاص طور پر مکاشفہ کی کتاب کے متعدد حوالوں کا ذکر کیا جو آرمیگیڈن اور مسیح کے لوٹنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔"
MRFFایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو امریکی فوج کے ارکان کے لیے مذہبی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتا ہے۔
فوجی اہلکار نے لکھا ہے کہ وہ یہ پیغام اپنے اور اپنی یونٹ کے دیگر 15 ارکان کی جانب سے لکھ رہا ہے، یہ سب خطے میں 'ریڈی-سپورٹ' کے طور پر تعینات ہیں۔
جب آزاد صحافی جوناتھن لارسن نے اس معاملے کی ابتدا میں اطلاع دی تو انادولو ایجنسی نے MRFF سے شکایت کی ایک نقل حاصل کرلی۔
فوجی کا پیغام ان 200 سے زائد پیغامات میں سے ایک تھا جو اس فاؤنڈیشن کو ہفتہ کے روز سے موصول ہوئے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف وسیع حملوں کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔
ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کے اپنے مقاصد کے بارے میں عوامی طور پر تبصرہ کرتے ہوئے بار بار اتار چڑھاؤ دکھایا ہے، اور ہفتے کو ایک مختصر ٹیلی فون گفتگو میں دی واشنگٹن پوسٹ سے کہا کہ وہ ایرانی عوام کو 'آزادی' دلانا کا ارادہ رکھتے ہیں — جو کہ ملکی نظم و نسق میں تبدیلی کی طرف اشارہ تھا۔
اگلے دنوں میں مقاصد میں تبدیلیاں آتی رہیں، یہاں تک کہ ٹرمپ نے ایرانیوں سے کہا کہ وہ 1979 سے ملک کی قیادت کرنے والی انقلابی حکومت سے اپنا ملک واپس لے لیں۔
امریکہ کا ایران میں موجودہ مشن، ایران کے روایتی بیلسٹک میزائل پروگرام اور اس کے بحریہ کو ختم کرنا، تہران کے علاقائی پراکسی نیٹ ورک کو ختم کرنا اور یقینی بنانا ہے تا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے ۔ یہ ایک دیرینہ مقصد ہے جو متعدد امریکی حکومتوں نے بیان کیا ہے۔ ایران نے طویل عرصے سے عوامی طور پر ان الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
وہ افسر، جس کی شناخت فاؤنڈیشن نے پینٹاگون کی ممکنہ بدلہ لینے کے خدشے کے سبب خفیہ رکھی، نے کہا کہ کمانڈر نے فوجی دستے سے مزید کہا کہ ٹرمپ 'مسیح کے ذریعے مسح شدہ ہیں تاکہ ایران میں سگنل فائر جلا کر آرمیگیڈن کو شروع کریں اور زمین پر ان کی واپسی کی نشانی لگائیں۔
اس فوجی نے جو خود عیسائی ہے کا کہنا ہے کہ ’’جب انہوں نے یہ سب کہا تو ان کے چہرے پر بڑی مسکراہٹ تھی ۔ ہمارے کمانڈر کو شاید 'کرِسچن فرسٹ' کے حامی کے طور پر بیان کیا جائے گا۔"
انہوں نے مزید کہا’’وہ بہت عرصے سے ایسا کرتا چلا آ رہا ہے اور واضح کرتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ ہم میں سے سب اس کی طرح عیسائی بن جائیں۔ مگر آج صبح جس تقریر نے بریفنگ میں شرکاء میں سے بہت سے افراد کو صدمے میں ڈال دیا وہ انتہائی زہریلا اور حد سے باہر تھا۔‘‘
انادولو نے پینٹاگون سے متعدد بار تبصرے کے لیے درخواستیں بھیجیں، مگر اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
اسرائیل-امریکہ کے حملے میں مذہبی رنگ بہت نمایاں رہے ہیں۔ حملے کے ایک دن بعد، اسرائیلی وزیراعظم بینیامین نیتن یاہو نے ایک تورات کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی حکومت کا موازنہ بائبل کے ایک قدیم دشمن سے کیا — اسی حوالہ کا فلسطینیوں کے حوالے سے بھی تذکرہ ہوتا رہا ہے۔
’’ہم نے اس ہفتے کی تورات کی حصّے میں پڑھا، 'یاد رکھو کہ عمانوک نے تمہارے ساتھ کیا کیا۔' ہم یاد رکھتے ہیں — اور ہم عمل کرتے ہیں،‘‘ انہوں نے ایک ایسے مقام کے دورے کے دوران کہا جسے ایرانی میزائل نے نشانہ بنایا تھا۔
ہیبرو بائبل میں عمانوک کے لوگ اسرائیلیوں کے ایک مستقل حریف کے طور پر بیان کیے گئے ہیں اور ان کے بارے میں تورات میں ایک حکم بھی منسوب ہے کہ ان کا نام مٹایا جائے۔
عروج پذیر مذہبی بیانیہ: 'فوری خطرہ'
مائکی وینسٹائن، جو سابقہ ایئر فورس افسر اور رونالڈ ریگن وائٹ ہاؤس کے قانونی مشیر رہ چکے ہیں، اب MRFF کے صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکریٹری آف ڈیفنس پیٹ ہیگسیٹھ نے پچھلے سال اپنی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد پینٹاگون میں چرچ اور ریاست کے درمیان طویل عرصے سے قائم حدود کو ختم کر دیا ہے۔
’’MAGA نے اسے تباہ کر دیا ہے۔ ان کا منظور شدہ حل ہے کہ سیدھے، سفید، عیسائی اور مرد ہوں۔ اور یہ معاملہ اتنا ہی خطرناک ہے جب آپ ابتدائی اسکولوں، مڈل اسکولوں، ہائی اسکولوں، کالجوں، قانون ساز اداروں، پولیس، فائر فائٹرز، سیوریج ورکرز میں عیسائی قوم پرستی دیکھتے ہیں،‘‘ وینسٹائن نے کہا۔
انہوں نے مزید کہا"مگر جب آپ اسے وہاں پاتے ہیں جہاں تمام جوہری ہتھیار ہیں، اور لیزر-گائیڈڈ ہتھیار اور ڈرونز ہیں، تو یہ ایک قطعی خطرہ ہے، ایک فوری خطرہ، ایک تبدیلی نہیں بلکہ ہماری اور دنیا کی قومی سلامتی کے لیے ایک فوری خطرہ ہے۔"
ہیگسیٹھ کے مذہب کے پینٹاگون میں داخلے کا حصہ باقاعدہ ماہانہ دعائیہ اجتماعات رہے ہیں جن میں حال ہی میں ڈیوگ ولسن شامل رہے ہیں، جو ایک انتہا پسند دائیں بازو کا evangelical عیسائی قوم پرست ہے جس نے غلامی کی حمایت کی، خواتین کے حقوق کی تنسیخ کا مطالبہ کیا، اور امریکہ کو تھیوکریسی بنانے کا تجویز پیش کیا ہے۔
وینسٹائن نے کہا"ہیگسیٹھ نے جو کچھ کیا ہے وہ ہماری امریکی فوج کی وہی اساس بکھیر دینا ہے، جسے ہمارے سپریم کورٹ نے پہلی ترمیم کے معاملے میں سرکاری مفاد کے طور پر طے کیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ فوج کی جان لیوا صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ کیا جائے، اور آپ یہ تبہی کرتے ہیں جب آپ اچھا نظم، حوصلہ، ضابطہ، یونٹ کا اتحاد، فوجیوں کی صحت اور حفاظت اور مشن کی تکمیل کو بڑھاتے ہیں۔"
ایک کثیر نسلی اور کثیر مذہبی فوج میں مسیحی قوم پرستی کو شامل کرنا اس کے طویل مدتی بنیادی اصولوں کے بالکل خلاف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تبدیلی، ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے کے بعد فاؤنڈیشن کو موصول ہونے والی شکایات میں ڈرامائی اضافے کا باعث بنی ہے۔
وینسٹائن نے کہا کہ ’’ برف ٹوٹ چکی ہے، ہم طوفان کی طرح بھر رہے ہیں۔‘‘