ہرمز کھلوانے کےلیے فوجی کاروائی کی تیاریاں،ابو ظہبی کے شامل ہونے کاامکان
منگل کو شائع ہونے والی دی وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق، عرب عہدیداروں کے حوالے سے، متحدہ عرب امارات اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایسی قرارداد کے لیے لابنگ کر رہا ہے جو فوجی کارروائی کی اجازت دے
متحدہ عرب امارات زور آزمائی کے ذریعے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی امریکہ کی قیادت میں کی جانے والی کوشش کی حمایت کرنے کی تیاری کر رہا ہے ۔
منگل کو شائع ہونے والی دی وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق، عرب عہدیداروں کے حوالے سے، متحدہ عرب امارات اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایسی قرارداد کے لیے لابنگ کر رہا ہے جو فوجی کارروائی کی اجازت دے۔
یہ امریکہ ، یورپ و ایشیا کی اتحادی طاقتوں سے بھی اس کلیدی سمندری راہداری کی حفاظت کے لیے اتحاد بنانے کی اپیل کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ابو ظہبی ممکنہ فوجی کرداروں کا جائزہ لے رہا ہے، جن میں مائن کلیئرنگ یعنی بارودی سرنگوں کی صفائی کے آپریشن بھی شامل ہیں کیونکہ وہ پہلی بار براہِ راست تنازعے میں حصہ لینے پر غور کر رہا ہے۔
جرنل کے حوالے سے دیے گئے بیان میں متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ "عالمی سطح پر وسیع اتفاقِ رائے ہے کہ ہرمز کی گزرگاہ میں بحری جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جاری امریکی-اسرائیلی جنگ نے خلیجِ فارس میں عدم استحکام کو ہوا دی ہے جبکہ تناؤ 2 مارچ سے بڑھ گیا جب ایران نے اس گزرگاہ میں جہاز رانی پر پابندیاں نافذ کرنے کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ بغیر رابطے کے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
دن میں تقریباً 20 فیصد عالمی خام تیل کی فراہمی اسی گزرگاہ سے گزرتی ہے ۔
عدم تحفظ میں اضافہ پہلے ہی تیل کی قیمتوں کے ساتھ بحری جہاز رانی اور انشورنس کے اخراجات بڑھا چکا ہے، اور اگر بحران گہرا ہوا تو مزید اقتصادی جھٹکوں کے خدشات میں اضافہ ہو جائے گا ۔