ایران کے بارے میں سخت اقدام اپنانا پڑ سکتا ہے:ٹرمپ
ٹرمپ نے نیوز سائٹ Axios کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ 'سوچ رہے' ہیں کہ ایک اور ایئرکرافٹ کیریئر سٹرائیک گروپ مشرق وسطی بھیجا جائے
امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے قریب دوسرا ایئرکرافٹ کیریئر سٹرائیک گروپ بھیجنے پر غور کر رہے ہیں ۔
یہ قدم اسی دوران اٹھایا جا رہا ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو مذاکرات کے پیش نظر واشنگٹن جا رہے ہیں ۔
ٹرمپ نے نیوز سائٹ Axios کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ 'سوچ رہے' ہیں کہ ایک اور ایئرکرافٹ کیریئر سٹرائیک گروپ مشرق وسطی بھیجا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایک بیڑا وہاں جا رہا ہے اور شاید ایک اور بھی روانہ ہو جائے ۔”
یہ ایئرکرافٹ کیریئر پہلے سے موجود یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے اسٹرائیک گروپ میں شامل ہو گا۔ اس فورس میں لڑاکا جیٹس، ٹوماہاک میزائل اور متعدد جہاز شامل ہیں جو گزشتہ سال کی بارہ روزہ جنگ کے دوران ہونے والی تعیناتیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ فوجی تعیناتی کے ساتھ ہی سفارتکاری بھی از سرِ نو شروع ہوئی ہے ۔
مقامی امریکی میڈیا نے ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یا تو ہم کوئی معاہدہ کریں گے یا ہمیں پچھلی بار کی طرح کوئی بہت سخت اقدام کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ بات چیت کا دوسرا دور اگلے ہفتے متوقع ہے۔
صدر نے کہا کہ ایران بہت بے تاب ہے کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور فوجی خطرے کی وجہ سے اس بار پہلے کی نسبت زیادہ سنجیدگی سے مذاکرات کر رہا ہے۔
تاہم تہران نے کہا ہے کہ وہ صرف اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کرے گا اور یورینیم کی افزودگی کا اپنا حق چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوگا۔
نیتن یاہو بدھ کے روز واشنگٹن پہنچے، پرواز میں سوار ہونے سے قبل انہوں نے رپورٹرز سے کہاکہ وہ صدر کو ان مذاکرات کے اصولوں کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر پیش کریں گے وہ بنیادی اصول جو میری رائے میں نہ صرف اسرائیل کے لیے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اور سلامتی چاہنے والے ہر کسی کے لیے اہم ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ نیتن یاہو “بھی معاہدہ چاہتے ہیں ،وہ ایک اچھا معاہدہ چاہتا ہے۔”
دوسری جانب ،ایران کے اعلیٰ مشیر علی لاریجانی منگل کو عمان کے سلطان اور عمانی وزیرِ خارجہ سے ملے اور متوقع طور پر آج دوحہ پہنچ کر قطری حکام کو اگلے امریکی-ایرانی مذاکرات سے قبل تفصیلات دیں گے ۔
لاریجانی نے پلیٹ فارم ایکس پر خبردار کیا کہ امریکیوں کو دانشمندی سے سوچنا چاہیئے،انہیں صہیونیوں کے تباہ کن کردار سے ہوشیار رہنا ہوگا۔
ٹرمپ کی تنبیہ ایسے وقت میں آئی جب امریکی فوجی تیاری میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے اسرائیل کے چینل 12 کو بتایا کہ یا تو ہم معاہدے تک پہنچیں گے یا پھر ہمیں کوئی بہت سخت اقدام کرنا پڑے گا۔