امریکہ: 10,000 سے زیادہ غیر قانونی تارکینِ وطن گرفتار

ریاست مینیپولس میں 10 ہزار سے زائد غیر قانونی مہاجرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے: کرسٹی نوم

By
امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکرٹری کرسٹی نوم 15 جنوری 2026 کو امریکہ کے واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کر رہی ہیں۔ / Reuters

امریکہ وزارت برائے داخلہ سلامتی  نے کہا ہے کہ ریاست مینیپولس میں 10 ہزار سے زائد غیر قانونی مہاجرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

وزیر برائے داخلہ سلامتی کرسٹی نوم نے بروز اتوار جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ " مینیپولس اور مینیسوٹا  ریاستوں میں جاری چھاپہ آپریشنوں کے دوران  وزارت برائے  داخلہ سلامتی نے  دس ہزار سے زائد غیرقانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا ہے "۔

نوم نے کہا ہے کہ یہ غیر قانونی تارکینِ وطن  امریکیوں کو قتل کر رہے، بچوں کو نقصان پہنچا رہے اور مینیپولس میں دہشت  گردی مچا رہے  تھے"۔

نوم نے مینیسوٹا کے گورنر' ٹم والز' اور مینیپولس کے گورنر 'جیکب فری' کو رہائشیوں کے تحفظ میں ناکامی اور "مجرموں " کے دفاع کا کا  قصوروار ٹھہرایا  ہے۔

نوم کے بقول گذشتہ چھ ہفتوں کے دوران شہری نظم و ضبط  کے  حکام نے 3,000 تارکین وطن کو گرفتار کیا ہے۔

امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایک ایجنٹ کے 7 جنوری کو 37 سالہ رینی نکول گڈ کو گولی مار کر ہلاک  کرنے کے بعد  سےمینیپولس قومی سطح پر امیگریشن قانون کے نفاذ کے حوالے سے تنازعے کا مرکز بن گیا ہے۔

رینی گڈ ایک امریکی ماں تھی اور  اس کی ہلاکت نے عوامی اور سیاسی سطح پر وسیع ردِعمل کو جنم دیا اور مقامی، ریاستی اور وفاقی سطح پر واقعے کی تحقیقات کےمطالبے میں شدّت پیدا کر دی ہے۔