ڈنمارک: امریکہ کے ساتھ مذاکرات شروع ہو رہے ہیں

امریکہ کے ساتھ جلد ہی گرین لینڈ کے موضوع پر مذاکرات شروع کر دیئے جائیں گے: لارس لوکے راسموسین

By
فائل: ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن اتوار، 18 جنوری 2026 کو اوسلو میں ایک پریس کانفرنس میں شریک ہیں۔ / AP

ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ لارس لوکے راسموسین نے  کہا ہے کہ " امریکہ کے ساتھ جلد ہی گرین لینڈ کے موضوع پر مذاکرات شروع کر دیئے جائیں گے"۔

لوکے نے آج بروز جمعہ کوپن ہیگن میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں   کہا  ہےکہ "ہم، آرکٹک میں سکیورٹی بڑھانے کے زیرِ مقصد،جلد ہی ملاقاتوں کا  آغاز کریں گے۔ تاہم  اس معاملے کو ڈرامائی پہلو سے دُور رکھنے کے لئے مذکورہ  ملاقاتوں کا ٹھیک وقت نہیں بتا سکتے ۔ ہماری  بات چیت کا محور 'سلامتی، سلامتی اور سلامتی' ہوگا"۔

دریں اثنا، نیٹو کے سربراہ مارک روٹے اور ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹے فریڈریکسن نے جمعہ کو جاری کردہ مشترکہ بیان میں  کہا ہے  کہ "ایسے میں کہ جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیاں واپس لے لی ہیں اتحاد کو آرکٹک سکیورٹی پر کام تیز کردینا چاہیے"۔

روٹے نے برسلز میں فریڈریکسن سے ملاقات کے بعد ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ہم مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ پورا نیٹو محفوظ اور مطمئن رہے اور ہم اپنے باہمی تعاون کی بنیاد پر آرکٹک کی مزاحمتی قوّت اور دفاع کو مضبوط کریں گے "۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے ڈاوس اجلاس کے دوران گرین لینڈ کے موضوع پر  روٹے ۔ ٹرمپ معاہدہ ہوا ہے جس کی تفصیلات فی الحال دستیاب نہیں  ہیں۔

دوسری طرف ٹرمپ کے قبضہ دھمکیوں سے باز آنے  کے بعد توقع ہے کہ وزیرِ اعظم فریڈریکسن ، گرین لینڈ کے دارالحکومت ' نوک' کا دورہ کریں گی اور اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقاتیں کریں گی۔

فریڈریکسن نے ایکس سے جاری کردہ بیان میں  برسلز سے نوک  جانے کا اعلان کیا ہے۔