میلان گیمز کے افتتاحی تقریب میں اسرائیلی کھلاڑیوں پر غزہ میں کی گئی نسل کشی پر ہجوم کی ہوٹنگ

اسرائیلی کھلاڑیوں نے افتتاحی تقریب سے قبل کہا تھا کہ وہ  زیرِمحاصرہ غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کے بعد ممکنہ طور پر مخالفانہ استقبال کے لیے تیار ہیں۔

By
میلان کی تقریب میں اسرائیل کے چار نمائندوں کا ہلکی پھلکی سیٹیوں سے استقبال کیا گیا۔ / Reuters

اسرائیل کی اولمپک ٹیم جب میلان-کورتینا 2026 ونٹر اولمپکس کی افتتاحی تقریب کے دوران اسٹیڈیم میں داخل ہوئی تو  عمومی طور   پربڑے خوشگوار اور تہوار جیسے ماحول میں سر انجام پانے والی اس تقریب میں اس  پر ہوٹنگ کی گئی۔

چار رکنی اسرائیلی وفد نے ملک کا پرچم لہراتے اور مسکراتے ہوئے جمعہ کے روز شریک ممالک کی پریڈ کے دوران سان سیرو اسٹیڈیم میں مارچ کیا، تا ہم اس کے فوراً بعد اسٹیڈیم میں بلند آواز میں بجنے والی موسیقی کی آوازنے تماشائیوں کی احتجاجی آوازوں کو دبا دیا۔

اسرائیلی کھلاڑیوں نے افتتاحی تقریب سے قبل کہا تھا کہ وہ  زیرِمحاصرہ غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کے بعد ممکنہ طور پر مخالفانہ استقبال کے لیے تیار ہیں۔

نسل کشی کے دوران اسرائیل نے تقریباً 72,000 فلسطینیوں کو ہلاک اور 171,400 سے زائد کو زخمی کیا۔ رپورٹس کے مطابق یہ اعداد و شمار کم بتا سکتے ہیں اور مجموعی اموات کا تخمینہ تقریباً 200,000 تک پہنچ سکتا ہے۔

اسرائیل نے تقریباً 90 فیصد عمارتیں اور گھر تباہ کر دیے اوریہ غزہ کے نصف سے زائد حصے پر قابض ہے۔

اکتوبر میں شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے، غزہ ہیلتھ حکام کے مطابق اسرائیل نے تقریباً 560 فلسطینی ہلاک کیے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔، اسرائیلی حکام کا کہنا ہے اسی مدت کے دوران فلسطینی مزاحمتی جنگجوؤں نے چار اسرائیلی فوجیوں کو مارا ۔