امریکی فوجی حملے میں کیریبین میں تین افراد ہلاک، 'منشیات اسمگلنگ' کے خلاف مہم میں تیزی

واشنگٹن کارٹیل کے خلاف "مسلح حملوں" کی حکمت عملی جاری رکھے ہوئے ہے، رپورٹس کے مطابق ستمبر سے اب تک ان آپریشنز میں کم از کم 181 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

By
امریکہ نے کیریبین میں منشیات اسمگلنگ کرنے والی کشتی پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ (تصویر: فائل) / Reuters

امریکی فوج نےبحیرہ  کیریبین  میں ایک منشیات اسمگل کرنے  کے دعوے کے ساتھ ایک    بوٹ پر  حملہ کیا ، اس حملے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔

واشنگٹن کی لاطینی امریکی پانیوں میں منشیات سمگلنگ کرنے والے جہازوں کو دھماکے کے ذریعے تباہ کرنے کی مہم ستمبر 2025 کے اوائل سے جاری ہے، جس میں مجموعی طور پر کم از کم 181 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مشرقی بحر الکاہل میں بھی مختلف حملے کیے گئے۔

ایران جنگ کے باوجود، حملوں کی یہ لہر گزشتہ ہفتے پھر تیزی پکڑ  گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامیہ مغربی نصف کرہ میں  منشیات کے خلاف  اپنائے گئے جارحانہ اقدامات سے  پیچھے نہیں ہٹی۔

یہ حملے اسی وقت شروع ہوئے جب امریکہ نے خطے میں اپنی سب سے بڑی فوجی موجودگی قائم کی ، جس کے نتیجے میں اُس وقت کے وینیزوئلا کے صدر نکولس مادورو کا اغوا ہوا۔

انہیں منشیات اسمگلنگ کے الزامات  کے ساتھ نیویارک کی عدالت میں  لایا گیا ، جس دوران انہوں نے ان الزامات کو سختی سے رد کر دیا ۔

اتوار کے تازہ ترین حملے میں، امریکی کمانڈ نے پہلے جیسے  بیانات دہراتے ہوئے کہا ہے کہ  اس نے معروف سمگلنگ راستوں کے ساتھ ساتھ مبینہ منشیات سمگلروں کو نشانہ بنایا  ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کا کہنا ہے کہ امریکہ، لاطینی امریکہ میں کارٹلز کے ساتھ 'مسلح تصادم' میں ہے اور وہ منشیات  کی لت سے  امریکی جانوں کو بچانے کے لیے  ضروری اقدامات اٹھا رہے ہیں۔