اسلام آباد میں امن مذاکرات کے غیر نتیجہ خیز ہونے پر ٹرمپ ایران پر نئے فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں
فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ پر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو ایران کے پاور پلانٹس اور پانی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
دی وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ ،پاکستان میں امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد ایران پر نئے فوجی حملوں پر غور کر رہا ہے۔
نائب صدر جے ڈی وینس اور ان کی وفد نے اسلام آباد میں مذاکرات کی قیادت کی، لیکن بات چیت کسی معاہدے پر ختم نہیں ہوئی۔
اخبار نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مشیر ایران میں محدودسطح کے حملے دوبارہ شروع کرنے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز پر امریکی بحری محاصرہ قائم کرنے پر غور کر رہے تھے۔
فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ پر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو ایران کے پاور پلانٹس اور پانی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا "لیکن میں یہ کرنانہیں چاہوں گا، یہ ان کا پانی ، نمک کشی کے پلانٹس، ان کے بجلی گھر ہیں، جنہیں تباہ کرنا بہت آسان ہے،" تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔
محاصرے کی حکمتِ عملی
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے کہا ہے کہ صدر "عقلمندی سے تمام متبادلوں پر غور کر رہے ہیں"، انہوں نےآبنائے ہرمز کے بحری محاصرے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ایرانی بلیک میلنگ" کو ختم کرنے کے لیے اس چیز کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
واشنگٹن کا مطالبہ ہے کہ ایران، یورینیم کی افزودگی کے تمام تر منصوبوں کو ختم کرے، تنصیبات کو تحلیل کرے، اور ایک وسیع تر سیکیورٹی فریم ورک قبول کرے۔
یہ محاصرہ ایران کی تیل کی آمدنی کو ختم کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، جو حکومتی بجٹ کے تقریباً نصف کو تشکیل دیتا ہے۔
تاہم، اس طریقہ کار میں خطرات بھی موجود ہیں، کیونکہ ایرانی ساحل کے قریب آپریشن کرنے والے امریکی نیوی کے جہاز ڈراون اور میزائل حملوں کا کم انتباہ کے ساتھ سامنا کر سکتے ہیں۔