اسرائیل کی خواہش ہے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرے، لیکن ٹرمپ سخت سیاسی مذاکرات کے حق میں ہیں: رپورٹ
اسرائیلی حکام نے کہا کہ تل ابیب امریکہ سے ایران پر حملے کی ترجیح دیتا ہے، اور انتباہ دیا کہ ایسی کارروائی سے گریز کرنے کے "نتائج" ہوں گے۔
نیتن یاہو نے ایک سیکورٹی اجلاس بلایا جس میں سینئر حکام سمیت حال ہی میں امریکہ کے دورے سے لوٹنے والے چیف آف جنرل اسٹاف ایئل زامیر بھی شامل تھے۔ زامیر نے ایران کے معاملے پر امریکی حکام سے بات چیت کی غرض سے امریکہ کا دورہ کیا تھا۔
اسرائیل کے سرکاری سرکاری ٹی وی کھان نے اطلاع دی ہے کہ موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بارنیا نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔
رپورٹ کے مطابق زامیر نے امریکی فوجی طیارے کے بجائے ایک نجی طیارے پر امریکہ کا سفر کیا تاکہ گرفت میں آنے سے بچا جا سکے اور وہ واشنگٹن کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
دو امریکی عہدیداروں نے ان کی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایاکہ امریکی اور اسرائیلی اعلیٰ فوجی حکام نے جمعے کو پینٹاگون میں ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران مذاکرات کیے ہیں۔
ان حکام نے جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے چیئرمین امریکی جنرل ڈین کین اور زامیر کے درمیان بند کمرے میں ہونے والی گفتگو کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے حملے کی دھمکی دی ہے تو متحدہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے بحری افواج کی موجودگی بڑھا دی ہے اور ہوائی دفاعی صلاحیتیں بھی مضبوط کی ہیں، دوسری جانب ایران کی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو خطّے میں انتششار پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
زامیر کی پیش گوئی
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق زامیر نے پیش گوئی کی ہے کہ امریکہ دو ہفتوں سے دو ماہ کے اندر ایران کے خلاف فوجی حملہ کرے گا۔ آرمی ریڈیو نے ایک صورتحال کے جائزہ اجلاس کے دوران زامیر کے الفاظ نقل کیے: "یہ غیر یقینی کی مدت ہے۔" زامیر نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ تہران کے خلاف امریکی حملہ "دو ہفتوں سے دو ماہ کے اندر" انجام پائے گا۔ ریڈیو نے کہا کہ آئندہ چند روز میں تہران پر امریکی حملے کی توقع نہیں کی جاتی۔
براڈکاسٹر نے کہا کہ "امریکہ ہر چیز اسرائیل کے ساتھ شیئر نہیں کرتا اور اسے اپنے فیصلہ سازی کے عمل سے خارج رکھتا ہے" اس ادارے نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل اس بات پر پریشان ہے کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر کسی ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں جس میں "ایران کے بیلسٹک میزائل" کو شامل نہ کیا جائے۔
سخت سودابازی
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے واشنگٹن میں زامیر کے مذاکرات کے بعد ان سے ملاقات کی، کاٹز کے دفتر نے کہا کہ اس ملاقات کا مقصد خطے کی صورت حال اور کسی بھی ممکنہ منظرنامے کے لیے اسرائیلی فوج کی "عملی تیاری" کا جائزہ لینا تھا۔ ایک نام نہاد اسرائیلی اہلکار جو مباحثوں میں شامل تھا، نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ سخت مذاکرات چاہتا ہے، جس سے اس اہلکار کے بقول ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ ممکن ہو گا۔
اسرائیلی حکام نے کہا کہ وہ ترجیح دیتے ہیں کہ امریکہ ایران پر حملہ کرے، خبردار کرتے ہوئے کہ ایسا نہ کرنے کے "نتائج" ہوں گے، جن میں انہوں نے ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی جانب ممکنہ پیشرفت کو شامل کیا۔
اسرائیلی حکام نے اپنے امریکی ہم منصبوں کو ایران کے جوہری میزائل پروگرام کے بارے میں اپنی "تشویش" کابھی اظہار کیا۔ اسرائیلی حکام نے اجلاس کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔
اسرائیلی مالیاتی اخبار دی کالکالسٹ کا اندازہ ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ جنگ کی لاگت 10 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ اخبار کے مطابق، اسرائیلی سکیورٹی ادارے کے بعض سینئر عہدے دار اس بات سے پریشان ہیں کہ ایران کے ساتھ تنازعے کی مدت اور نوعیت کے لحاظ سے مزید ایک جنگ کی قیمت کروڑوں شیکلز تک پہنچ سکتی ہے۔"