بی وائی ڈی نے دنیا کی سب سے بڑی الیکڑک گاڑیوں کی فرم ٹیسلا کو پیچھے چھوڑ دیا

تیسلا کی عالمی برقی گاڑیوں کی فروخت 2025 میں آٹھ فیصد سے زیادہ گر گئی، چین کی BYD دنیا کی سب سے بڑی برقی گاڑیاں بنانے والی کمپنی بن گئی۔

By
Tesla logo is seen in this illustration taken on July 23, 2025. / Reuters

ٹیسلا کا کہنا ہے کہ 2025 میں اس کی فروخت کم ہوئی، اور اس سال وہ دنیا کا سب سے بڑا الیکٹرک گاڑیاں بنانے والا ادارہ ہونے کا اعزاز موٹر گاڑیوں کی فرم BYD کو دے بیٹھا ہے۔

ایلون مسک کی قیادت والی امریکی کمپنی نے سال کے آخری تین ماہ میں 418,227 ڈلیوریز ریکارڈ کیں، جس سے اس کی سالانہ فروخت تقریباً 1.64 ملین الیکٹرک گاڑیوں تک پہنچی۔

یہ 2024 کے مقابلے میں فروخت میں 8 فیصد سے زیادہ کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس سے ایک روز قبل، BYD نے اعلان کیا تھا کہ اس نے پچھلے سال 2.26 ملین الیکٹرک گاڑیاں فروخت کیں۔

تجزیہ کاروں نے FactSet کے مشترکہ اندازے کے مطابق توقع کی تھی کہ ٹیسلا کی آخری سہ ماہی کی فروخت کم ہونے کی شرح کم ہوگی اور یہ 449,000 تک رہے گی۔

یہ واپسی اس وقت سامنے آئی جب ستمبر 2025 کے آخر میں 7,500 ڈالر کا امریکی ٹیکس کریڈٹ ختم کر دیا گیا، اور صنعت کے نگرانوں نے کہا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ کے توازن میں سستی آئےگی۔

لیکن اس سے پہلے بھی ٹیسلا نے اہم منڈیوں میں فروخت میں مشکلات دیکھیں، جن کا سبب سی ای او مسک کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر انتہا پسند سیاستدانوں کی سیاسی حمایت کو مانا گیا۔

ٹیسلا کو BYD اور دیگر چینی کمپنیوں کے علاوہ یورپی موٹر ساز فرموں کی بھی بڑھتی ہوئی مقابلہ بازی کا سامنا ہے۔

BYD عالمی EV لیڈر بن گیا

شینزین میں قائم BYD، جو ہائبرڈ گاڑیاں بھی بناتی ہے، نے جمعرات کو گزشتہ سال ریکارڈ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کا اعلان کیا۔

چینی میں 'بیادی' (یا انگریزی میں"Build Your Dreams" )کے نام سےیاد کی جانے والی بی وائے ڈی فرم کا قیام 1995 میں عمل میں آیا تھا اور یہ فرم بیٹری سازی میں مہارت رکھتی تھی۔

یہ آٹوموبائل فرم انتہائی مسابقتی الیکڑک گاڑیوں (new energy vehicles) کی مارکیٹ پر قابض ہو چکا ہے — یہ اصطلاح مکمل طور پر الیکٹرک گاڑیوں سے لے کر پلگ ان ہائبرڈ تک مختلف گاڑیوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ چین الیکڑک گاڑیوں کی دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔

BYD اب بیرونِ ملک اپنی موجودگی پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ چین میں صارفین کی قیمت کے حوالے سے محتاط طرزِ خریداری منافع پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

جہاں BYD اور دیگر چینی برقی گاڑی ساز امریکی سخت محصولات (tariffs) کا سامنا کرتے ہیں، وہیں کمپنی کی کامیابی جنوب مشرقی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ میں بڑھ رہی ہے۔

مارکیٹ کا ردِ عمل اور آئندہ کا منظرنامہ

ٹیسلا نے 2024 میں سالانہ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں BYD کو محض معمولی فرق سے پیچھے چھوڑا تھا؛ امریکی کمپنی کی بِکری 1.79 ملین  جبکہ BYD کی بِکری 1.76 ملین رہی تھی۔

ٹیسلا کے حصص جمعہ کو نیویارک میں ابتدائی تجارت میں 0.5 فیصد گر گئے۔

Wedbush Securities کے تجزیہ کاروں نے نوٹ کیا کہ ٹیسلا کی سہ ماہی فروخت کا اعداد و شمار کچھ لوگوں کی قیاس آرائیوں کے مقابلے بہتر رہا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ کمپنی کو 'EV ٹیکس کریڈٹ کے خاتمے کے بعد ایک زیادہ مشکل طلب کے ماحول' کا سامنا ہے جبکہ یورپ اس کی ڈلیوریوں کے لیے رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

کمپنی کو یورپ میں خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی سے متعلقہ بعض ضوابطی منظوری حاصل کرنے میں اب بھی مشکلات کا سامنا ہے، اور جب یہ ضوابطی رکاوٹیں دور ہو جائیں گی تو فروخت ممکنہ طور پر دوبارہ بحال ہو سکتی ہے۔

Wedbush کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چھوٹی اور ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے ارد گرد فروخت نے توقعات سے زیادہ بڑے نمو کے اعداد و شمار دکھانا شروع کر دیے ہیں جو چین اور یورپ جیسے کلیدی علاقوں میں کمی کو متوازن کر سکتے ہیں۔