اس وقت انتخابات کا انعقاد ایک 'غلطی' ہوگا: نیتن یاہو

میرا خیال ہے کہ اس وقت انتخابات ہماری آخری ترجیح ہیں۔ ہم اس سال کے اواخر میں انتخابات کروائیں گے اس وقت انتخابات کا انعقاد میرے خیال میں ایک غلطی ہوگا: نیتان یاہو

By
نیتن یاہو نے کہا کہ غزہ میں تعمیر نو کا کوئی کام حماس کے غیر مسلح ہونے اور انکلیو کو غیر فوجی بنانے سے پہلے شروع نہیں ہوگا۔ (فائل) / Reuters

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اس وقت انتخابات کا انعقاد ایک 'غلطی' ہوگا۔

نیتان یاہو کو قومی بجٹ منظور کروا نے میں ناکامی کی صورت میں قبل از وقت انتخابات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بجٹ ،بروز بدھ  اسرائیلی پارلیمنٹ میں پڑھنا شروع کیا جائے گا کہ جس میں نیتان یاہو اتحاد صرف ایک سابق اتحادی کے غیر یقینی   تعاون کی وجہ سے برقرار  ہے۔

نیتن یاہو نے بروز منگل  ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ "بالکل، مجھے تشویش ہے... میرے خیال میں ہم ایک نہایت حساس صورتحال میں ہیں"۔

نیتان یاہو نے  کہا ہے کہ"میرا خیال ہے کہ اس وقت انتخابات ہماری آخری ترجیح  ہیں۔ ہم اس سال کے اواخر  میں انتخابات کروائیں گے اس وقت انتخابات کا انعقاد  میرے خیال میں ایک غلطی ہوگا"۔

واضح رہے کہ اگر 31 مارچ تک بجٹ منظور نہ ہوا تو اس کے نتیجے میں قبل از وقت انتخابات کروائے جائیں گے۔

انتخابات نومبر تک متوقع  ہیں

اسرائیل کی مرکزی دائیں بازو کی سیاسی پارٹی لیکوڈ کے لیڈر نیتان یاہو طویل ترین عرصے سے   وزار تِ اعظمیٰ پر فائز رہے ہیں۔ نیتان یاہو  1996 کے بعد مختلف ادوار میں مجموعی طور پر 18 سال سے زائد عرصے سے وزیرِ اعظم ہے اور  دوبارہ انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

گذشتہ انتخابات میں لیکوڈ پارٹی نے کنیسٹ میں 32 نشستیں جیتیں  ان کے انتہائی مذہبی حلیفوں نے 18 نشستیں حاصل کیں اور ایک انتہاپسند دائیں بازو کے اتحاد کو 14 نشستیں ملی تھیں۔

تناؤ کے نکات

نیتن یاہو کے بعض انتہائی مذہبی حلیف پچھلے سال باضابطہ طور پر ان کی حکومت سے الگ ہو گئے تھے مگر فی الحال وہ حکومت گرانے سے انکار کر رہے ہیں۔

تاہم وہ اپنی برادری کے افراد کو فوجی خدمات سے مستثنیٰ کروانے کے قانون کی منظوری تک بجٹ کے بارے میں ووٹ کے استعمال کے بارے میں   محتاط ہیں ۔

نیتن یاہو کے موجودہ دور کا آغاز ایک متنازع عدالتی اصلاحاتی منصوبے کے ساتھ ہوا تھا جس نے کئی ماہ تک بڑے پیمانے کے  احتجاجی مظاہروں کو جنم دیا اور تقریباً روزانہ کی بنیاد پر  ہزاروں  اسرائیلی سڑکوں پر نکلتے رہے تھے۔

حزب اختلاف لیڈروں اور یرغمال بنائے گئے  افراد کے اہل خانہ نے بھی ان پر الزام لگایا  ہےکہ وہ اپنی سیاسی بقاء کے لیے غزہ میں جاری نسل کشی کو طول دے رہے ہیں۔

اسرائیل نے اکتوبر 2023 سے غزہ میں نسل کُشی  کے دوران، زیادہ تر عورتوں اور بچوں پر مشتمل،  71,600 سے زائد فلسطینیوں کو قتل اور 171,400 سے زائد زخمی کر چُکا ہے۔

نیتن یاہو نے کہا  ہے کہ حماس کے غیر مسّلح ہونے اور  غزّہ  کے عسکری قوت سے محرومی  تک علاقے میں کسی تعمیر نو کا آغاز نہیں ہوگا۔