ایران نے امریکہ سے مذاکرات میں جے ڈی وانس کی ترجیح کا اشارہ دے دیا

"جو بھی انتظامیہ بھیجے گی، ایرانیوں کو اس سے نمٹنا ہوگا، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی کوئی ترجیح نہیں ہے''۔ ایرانی عہدیدار

By
فائل: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس 18 مارچ 2026 کو امریکہ کے مشی گن میں واقع آبرن ہلز کے ایک صنعتی یونٹ میں خطاب کر رہے ہیں۔ / Reuters

منگل کو جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے ٹرمپ انتظامیہ کو اشارہ دیا ہے کہ یہ  دوسرے سینئر عہدیداروں کی بجائے امریکی نائب صدر جے ڈی ونس کے ساتھ مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے۔

سی این این نے دو علاقائی ذرائع کے حوالے سے کہا کہ ایرانی نمائندوں نے،  مذاکرات کے بعد امریکی-اسرائیلی فوجی اقدام کے باعث اعتماد کے 'فقدان' کا حوالہ دیتے ہوئے پسِ پردہ راستوں سے اطلاع دی  ہےکہ وہ خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف یا جیرڈ کوشنر کے ساتھ دوبارہ بات چیت نہیں کرنا چاہتے۔

ذرائع کے مطابق ونس کو جنگ ختم کرنے کے زیادہ  خواہشمند ہونے  کے طور پر دیکھا جاتا ہے، ایک نے کہا کہ یہ تاثر ہے کہ وہ 'جنگ  ختم کرنے' کے خواہاں ہوں گے۔

ایک دوسرے نمائندے  کا  کہنا تھا کہ "جو بھی انتظامیہ بھیجے گی، ایرانیوں کو اس سے نمٹنا ہوگا، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی کوئی ترجیح نہیں ہے''۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مجوزہ ملاقات اس ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں زیرِ غور ہے، اگرچہ ذرائع نے اس کے  وقوع پذیر ہونے پر شک کا اظہار کیا ہے۔

منگل کے اوائل میں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ 'اس وقت ایران سے مذاکرات '  کر رہاہے اور ونس، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، وِٹکوف اور کوشنر سب سفارتی کوششوں کا حصہ  ہیں۔

امریکہ نے مبینہ طور پر ایران کو جنگ ختم کرنے کے لیے پندرہ نکاتی منصوبہ بھیجا ہے، جو پاکستان کے ذریعے پہنچایا گیا اور اس میں تہران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرامز کے علاوہ  آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کے اقدامات شامل ہیں۔

ایرانی عہدیداروں نے کہا کہ انہوں نے بعض 'دوست ممالک' سے پیغامات موصول کیے ہیں جو واشنگٹن کی طرف سے جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی درخواست کر رہے ہیں، تا ہم  انہوں نے براہِ راست واشنگٹن کے ساتھ کسی بات چیت کی تردید کی۔

فروری 28 سے امریکہ اور اسرائیل ایران پر فضائی حملے کر رہے ہیں، جن میں اب تک 1,340 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایران نے ردِعمل میں ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں جن کا ہدف اسرائیل کے ساتھ ساتھ اردن، عراق اور خلیجی ممالک تھے جو امریکی فوجی اثاثوں کی میزبانی کرتے ہیں، ان حملوں سے جانی نقصان اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور عالمی منڈیاں اور ہوابازی کا شعبہ  متاثر ہوا ہے۔