اسرائیلی فائرنگ سے ایک فلسطینی ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوگئے، فائر بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی نافذالعمل ہونے کے بعد سے کم از کم 716 فلسطینی ہلاک اور 1,968 زخمی ہو چکے ہیں۔

By
اسرائیلی حملے غزہ میں جنگ بندی کے باوجود جاری ہیں۔ / AA

طبی ذرائع کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہوئے ہیں، جو اکتوبر 2025 سے نافذ جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کا حصہ ہے۔

ذرائع نے کہا کہ حملوں میں زخمیوں میں بچے بھی شامل تھے، اور یہ حملے غزہ پٹی کے متعدد علاقوں کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے کئی مقامات پر فائرنگ کی، جن میں مشرقی غزہ شہر کا محلہ شجاعیہ اور جنوبی شہر خان یونس شامل ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جب سے جنگ بندی نافذ ہوئی ہے کم از کم 716 فلسطینی ہلاک اور 1,968 زخمی ہو چکے ہیں۔

طبی ذرائع اور گواہوں کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں مشرقی غزہ شہر میں ایک اسرائیلی ڈرون کے فلسطینیوں کے ایک گروہ پر حملے کے بعد تین مزید فلسطینی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

طبی ذرائع نے کہا کہ حملے کے بعد متاثرین کو وسطی غزہ شہر کے الاہلی بیپٹسٹ ہسپتال اور مغرب کے الشفا ہسپتال منتقل کیا گیاہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے  کہ حملہ الشاوا اسکوائر کے قریب فلسطینی سیکیورٹی اہلکاروں کے ایک گروہ کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔

اس سے قبل ہفتے کے روز غزہ کے مرکز میں ایک گاڑی پر اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک فلسطینی ہلاک اور تین دیگر زخمی ہو ئے تھے۔

یہ جنگ بندی غزہ میں دو سالہ اسرائیلی نسل کشی کو ختم کرنے کے لیے تھی، جس کے نتیجے میں 72,000 سے زائد افراد ہلاک اور 172,000 زخمی ہوئے۔

اس جنگ نے غزہ پٹی میں شہری انفراسٹرکچر کا تقریباً 90 فیصد تباہ کر دیا۔

اقوامِ متحدہ نے ازسرِ نو تعمیر کے اخراجات کا اندازہ تقریباً 70 ارب ڈالر لگایا ہے۔