یورپ بھر میں یخ بستہ سردی نے روز مرہ کی زندگی بری طرح متاثر
ایمسٹرڈیم سے پیرس کے لیے ہائی اسپیڈ یورو اسٹار سروسز یا تو منسوخ کر دی گئی تھیں یا تاخیر کا شکار تھیں۔ شہر کے شِپہول ائیرپورٹ پر 400 سے زیادہ پروازیں منسوخ ہو گئیں،
منگل کو یورپ کے وسیع رقبے کو یخ بستہ سردی کی لہر نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ برفباری اور برف جمنے سے نیدرلینڈز میں سینکڑوں پروازیں منسوخ ہو گئیں اور فرانس کی سڑکوں پر پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔
نیدرلینڈز میں منگل کی صبح ملک گیر ریلوے نیٹ ورک میں خلل آنے کے بعد ایک آئی ٹی خرابی کے باعث تمام اندرونی ریلوے سروسز معطل کر دی گئیں۔ ملک کے بعض حصوں میں ٹرینیں آج سے بحال ہو گئی ہیں تو مشہور سیاحتی مقام ایمسٹرڈیم کے علاقے میں مسائل برقرار ہیں۔
جن میں سے زیادہ تر پروازیں ایئر فرانس اور کے ایل ایم کی تھیں، جبکہ سرد موسم نے یورپ کے ایک مرکزی ٹرانزٹ حب پر پانچویں روز بھی ٹریفک کو شدید متاثر کیا۔
جرمنی میں منگل کی صبح جنوب اور مشرق میں درجۂ حرارت منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے کافی نیچے گر گیا۔ ملک کے بڑے حصے برف کی چادر سے ڈھکے ہوئے تھے، حتیٰ کہ نارتھ سی کے قریب واقع علاقے بھی جہاں موٹی برفباری اب کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ موسمیات کے ماہرین نے جمعہ کو ملک میں طوفان کی پیشگوئی کی ہے، جس کے نتیجے میں شمال اور مشرق میں شدید برفباری متوقع ہے۔
فرانس میں طویل سرد لہر کے بعد پیر کو پیرس کے علاقے اور ملک کے بڑے حصوں میں برفباری کے بعد رات میں درجۂ حرارت نقطہ انجماد سے بھی نیچے گر گیا۔ فرانس کے مغرب اور شمال میں چھ چھوٹے ائیرپورٹس بند کر دیے گئے، تاہم پیرس کے دو بڑے ائرپورٹس پر کسی پرواز کی منسوخی کی اطلاع نہیں۔
وزیرِ ٹرانسپورٹ Philippe Tabarot نے لوگوں سے کہا کہ وہ سڑکوں پر ممکن حد تک کم سفر کریں اور گھروں سے کام کریں، کیونکہ پگھلی ہوئی برف جو رات میں دوبارہ جم گئی تھی، سڑکوں کو خطرناک بنا دیتی ہے۔ BFMTV اور دیگر فرانسیسی میڈیا نے بتایا کہ پیر سے فریزنگ حالات سے منسلک سڑک حادثات میں پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ پیرس میں بس سروسز بھی افراتفری کا شکار تھیں جب پیر کو معطلی کے بعد سروسز دوبارہ شروع ہوئیں۔
دریں اثنا برطانیہ میں موسمیاتی دفتر نے پیر کو کہا کہ ملک کے بیشتر حصوں میں ہفتے بھر سرد موسمی خطرات جاری رہ سکتے ہیں۔ اس نے وسطی سکاٹ لینڈ کے لیے برف کے سلسلے میں ایمبر وارننگ جاری کی، جو سرخ کے بعد دوسری سب سے شدید وارننگ ہے۔
اس ہفتے مغربی بلقان میں بھی شدید برف اور بارش نے تباہی مچائی، راستے بند ہو گئے، بجلی منقطع ہوئی اور دریاؤں میں طغیانی آئی۔ بوسنیا کے دارالحکومت سرائیو میں پیر کو ایک خاتون برف کے بوجھ سے گرنے والے ایک درخت تلے آگئی۔