پاکستان: ہم، لبنان میں اسرائیلی 'جارحیت' کی سخت مذّمت کرتے ہیں
پاکستان، اس مشکل وقت میں لبنان کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کی ملکی خودمختاری، علاقائی سالمیت، امن اور استحکام کی حمایت جاری رکھے گا: وزارتِ خارجہ
پاکستان نے آج بروز جمعرات لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید مذّمت کی اور انہیں بین الاقوامی قانون اور بنیادی انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
پاکستان وزارتِ خارجہ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستان، لبنان کے خلاف جاری اور شہری اموات اور بنیادی ڈھانچے کی وسیع پیمانے پر تباہی کا سبب بننے والی اسرائیلی "جارحیت" کی شدید ترین الفاظ میں مذّمت کرتا ہے ۔
اسلام آباد نے کہا ہے کہ اسرائیل کے اقدامات خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ بیان میں عالمی برادری سے اس "جارحیت" کو روکنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان نے لبنان کی حکومت اور عوام کے ساتھ "غیر متزلزل" یکجہتی کا اعادہ کیا اور کہا ہے کہ پاکستان، اس مشکل وقت میں لبنان کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کی ملکی خودمختاری، علاقائی سالمیت، امن اور استحکام کی حمایت جاری رکھے گا۔
حالیہ اسرائیلی حملے ، ایران۔ امریکہ جنگ بندی کے بعدکئے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ جنگ بندی معاہدے کا اعلان منگل کے روزکیا گیا۔ دو ہفتے کی اس جنگ بندی کا مقصد 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی اور خطے میں ہزاروں افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کا سبب بننے والی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک حتمی معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
یہ اعلان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور ایک معاہدہ قبول کرنے کے لیے دی گئی مہلت ختم ہونے سے محض دو گھنٹے قبل کیا گیا تھا۔ اعلان سے قبل ٹرمپ نے ایران کی پوری تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔