روس اور بیلاروس نے مشترکہ فوجی مشقیں شروع کر دیں

روس اور اس کے اتحادی بیلاروس نے وسیع پیمانے کی مشترکہ فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں

پولینڈ نے بیلاروس کے ساتھ اپنے چند باقی سرحدی راستے بند کر دیے ہیں اور اپنی مشرقی سرحد کے ساتھ فضائی آمدورفت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ / تصویر: اے ایف پی / AFP

روس اور اس کے اہم اتحادی بیلاروس نے، آج بروز جمعہ علی الصبح، وسیع  پیمانے کی مشترکہ فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔

روس وزارت دفاع نے  کہا ہے کہ "روس اور بیلاروس مسلح  افواج کی مشترکہ اسٹریٹجک مشقیں شروع ہو چکی ہیں"۔

"زاپاد" نامی یہ مشقیں پولینڈ کی طرف سے  ماسکو کو، اپنی ملکی فضائی حدود میں حملہ آور ڈرون بھیج کر، تناو میں اضافے کا قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد شروع کی گئی ہیں اور نیٹو کو چوکس کرنے کا سبب بنی ہیں۔

 'زاپاد' مشقیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں کہ جب روسی افواج یوکرین کے وسیع محاذ پر پیش قدمی کر رہی  اور یوکرینی شہروں پر فضائی حملوں میں اضافہ کر رہی ہیں۔

بیلا روس کی طرف سے جاری کردہ اور ان مشقوں کے دارالحکومت منسک کے مشرقی شہر بوریسوف  میں منعقد ہونے سے متعلقہ اعلان کے بعد اس کے ہمسایہ اور نیٹو کے مشرقی بازو کےرکن  ممالک 'پولینڈ، لیتھوانیا اور لٹویا '  سخت چوکس حالت میں  آ گئے ہیں۔

ان مشقوں کے پیش نظر تینوں ممالک نے اپنی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے اور پولینڈ نے بیلاروس کے ساتھ اپنی سرحد کو مکمل طور پر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے اپنے ملک کے لیے 'انتہائی نازک دنوں' کی وارننگ دی اورکہا  ہےکہ پولینڈ  'کھلی جھڑپ' کے اتنا  قریب ہے کہ جتنا دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اب تک پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

تاہم ماسکو نے ان خدشات کو کوئی  اہمیت نہیں  دی  اور انہیں بے وجہ قرار دیا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعرات کو صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں کہا ہے کہ  "یہ مشقیں باقاعدہ منصوبہ بند  ہیں اور  ان کا مقصد کسی  بھی ملک کو ہدف بنانا  نہیں ہے"۔ انہوں نے پولینڈ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے  کہ جس میں اس نے ان مشقوں کو جارحانہ طاقت کا مظاہرہ قرار دیا تھا۔

دوسری طرف یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی ماسکو کے ارادوں کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

انہوں نے جمعرات کو کیف سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "روس کے ایسے اقدامات کا مطلب یقینی طور پر دفاعی نہیں ہے اور یہ صرف یوکرین کے ہی نہیں بلکہ دیگر  ممالک کے بھی خلاف  ہیں"۔

تاہم روس نے دعوی  کیا ہے کہ اس نے رات بھر اپنی فضائی حدود میں 221 یوکرینی ڈرونزوں کو روکا ہے۔