مرکزِ بحالی پر پاک فوج کے مبینہ حملے میں 400 افراد ہلاک ہونے کا دعوی
ایک افغان اہلکار نے دعوی کیا ہےکہ پاکستان کے فضائی حملے میں کابل میں ایک منشیات کی بحالی کے مرکز میں موجود 400 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ایک افغان اہلکار نے کہا ہے کہ پاکستان کے فضائی حملے میں کابل میں ایک منشیات کی بحالی کے مرکز میں موجود 400 افراد ہلاک ہو گئے۔
افغان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرات نے ایکس پر کہا کہ پاکستانی فوج نے تقریباً 9:00 بجے شب امید ایڈکشن ٹریٹمنٹ ہسپتال پر فضائی حملہ کیا، جو نشے کے علاج کے لیے وقف ایک 2,000 بستروں والا ادارہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حملے کے نتیجے میں ہسپتال کے بڑے حصے تباہ ہو گئے ہیں اور امکانات ہیں کہ ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگی "
ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 250 دیگر افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں اور امدادی ٹیمیں اس وقت جائے وقوعہ پر کام کر رہی ہیں۔
اس سے قبل کابل میں فضائی حملوں کی اطلاعات آئیں تھیں اور افغان حکومت نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ اس نے افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 2,000 بستروں والے امید منشیات بحالی مرکز پر بمباری کی۔
اسلام آباد نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے ۔
واقعے کی جگہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے زمان نے کہا کہ ہم زخمیوں اور داخل شدہ مریضوں کی تلاش کر رہے ہیں۔
ان بیانات کے بعد پاکستان کی وزارت اطلاعات نے کابل کے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ اسلام آباد نے بالکل درست نشانہ بنایا تھا اور ان فوجی تنصیبات اور دہشت گرد تعاون کے ڈھانچے، بشمول تکنیکی سازوسامان کے ذخیرے اور افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا جو بے گناہ پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہے تھے۔
وزارت نے مزید کہا کہ حملے کے بعد ذخیرہ شدہ گولہ بارود کے دھماکہ خیز ہونے سے پیدا ہونے والے مناظر بھی اس جعلی دعوے کی مکمل تردید کرتے ہیں،۔