امریکہ: ہم بھارت کو چین کی طرح اپنا رقیب نہیں بننے دیں گے

واشنگٹن بھارت کو وہ معاشی فوائد نہیں دے گا جو اس نے ماضی میں چین کو دیئے تھے اور جن کی بدولت بیجنگ امریکہ کا ایک اہم حریف بن کر ابھرا ہے: کرسٹوفر  لینڈاؤ

By
کرسٹوفر لینڈاؤ کا کہنا ہے کہ اکیسویں صدی کی تشکیل دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے اور بے پناہ صلاحیتوں کے حامل ملک کے طور پر بھارت کے عروج سے ہوگی۔ [فائل] / Reuters

امریکہ کے نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر  لینڈاؤ نے نئی دہلی میں ایک کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ واشنگٹن بھارت کو وہ معاشی فوائد نہیں دے گا جو اس نے ماضی میں چین کو دیئے تھے اور جن کی بدولت بیجنگ امریکہ کا ایک اہم حریف بن کر ابھرا ہے۔

کرسٹوفر لینڈاؤ  ، رائسینہ ڈائیلاگ 2026 میں شرکت کے لئے  اپنے وفد کے ہمراہ نئی دہلی کے دورے پر ہیں۔ کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا ہے کہ "بھارت کو سمجھنا چاہیے کہ ہم وہی غلطیاں نہیں دہرائیں گے جو ہم نے 20 سال پہلے چین کے ساتھ تعلقات میں  کی تھیں۔یعنی ہم کہیں کہ ہم آپ کے  بازاروں کو ترقی کرنے دیں گے اور پھر ایک دن پتہ چلے کہ آپ بہت سے تجارتی میدانوں میں ہمیں پیچھے چھوڑ رہے ہیں"۔

انہوں نے زور دیا ہے کہ امریکہ ، بھارت کو ایسی بے قابو مارکیٹ تک رسائی نہیں دے گا جس سے وہ چین کی طرح امریکہ کا بڑا اقتصادی حریف بن جائے۔

لینڈاؤ نے کہا  ہے کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ بھارت کے ساتھ کوئی بھی تجارتی و اقتصادی ربط و تعلق "ہماری عوام کے لیے منصفانہ" ہو کیونکہ بالآخر ہمیں اپنی ہی عوام کے سامنے جوابدہ ہونا ہوگا جیساکہ بھارتی حکومت کو بھی اپنی عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔

لینڈاؤ نے مزید کہا  ہےکہ بھارت اور امریکہ کے مابین تجارتی معاہدے کے مذاکرات تقریباً اختتامی مراحل میں ہیں۔

لینڈاؤ نے کہا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی کا مقصد ملک کے مفادات کو آگے بڑھانا ہے۔ہم کوئی خیراتی ادارہ نہیں ہیں۔ ہم اقوام متحدہ نہیں ہیں… تاہم ’سب سے پہلے امریکہ‘ کا مطلب یہ  بھی نہیں کہ امریکہ اکیلا ہو۔ جس طرح صدر ٹرمپ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانا چاہتے ہیں، ویسے ہی وہ توقع کریں گے کہ بھارت کے وزیر اعظم اور دوسرے ممالک بھی اپنے اپنے ممالک کو عظیم بنانا چاہیں گے"۔

لینڈاؤ نے اکیسویں صدی میں بھارت کی ممکنہ حیثیت کو اجاگر کیا اور کہا ہے کہ "میرا خیال ہے کہ ایک ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ یہ صدی کئی لحاظ سے ایسی صدی ہوگی جس میں ہم بھارت کے عروج کی توقع رکھتے ہیں۔ بھارت دنیا کا سب سے زیادہ  آبادی والا ملک ہے۔ اس کے پاس اقتصادی، انسانی اور دیگر ایسے وسائل ہیں جو اسے اُن ملکوں میں شامل کرتے ہیں جو اس صدی کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے"۔

انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ بھارت کی ترقی کا حصہ بننا چاہتا اور باہمی احترام، توازن اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر گہرے تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔

ایران کے ساتھ جاری امریکی۔اسرائیلی جنگ کے عالمی سطح پر پیدا کردہ خلفشار کے دوران، لینڈاؤ نے بھارت پر زور دیا  ہے کہ وہ اپنی توانائی کے ذرائع متنوع کرے اور امریکی رسد  پر غور کرے۔

انہوں نے کہا ہے کہ "میں امید کرتا ہوں کہ آپ متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں… آپ کے لیے امریکہ سے بہتر متبادل کوئی نہیں ہو سکتا۔ امریکہ، بھارت کی توانائی سلامتی میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ چیز بھارت کی پھیلتی ہوئی  معیشت کے چیلنجوں کو دیکھتے ہوئے نہایت اہم ہے۔