فلسطین کے حامی ایکٹیوسٹ کا احتجاج: نیوزی لینڈ نسل کُشی کا شریکِ جُرم ہے
مشرق وسطی
فلسطین کے حامی ایکٹیوسٹ کا احتجاج: نیوزی لینڈ نسل کُشی کا شریکِ جُرم ہے
ایک فلسطین کے حامی ایکٹیوسٹ  نے 19 اگست کو کرائسٹ چرچ میں نیشنل پارٹی کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک عوامی اجلاس کے دوران نیوزی لینڈ کے قدامت پسند وزیرِ اعظم کرسٹوفر لکسن کی تقریر کو کاٹ دیا۔

اس واقعے کی ویڈیو بنانے والے ایکٹیوسٹ  ولیئم الیگزینڈر نے TRT World کو بتایا ہے کہ "ہم جو پیغام دینا چاہتے تھے وہ یہ ہے کہ نیوزی لینڈ حکومت، غزہ میں اسرائیل کی طرف سے جاری، نسل کشی  جُرم میں شریک ہے"۔

الیگزینڈر نے مزید کہا ہے کہ "انہوں نے نیوزی لینڈ کی زمین سے جاسوسی سیٹلائٹوں کی لانچنگ کی اجازت دی جنہیں ایک قوی احتمال کے مطابق  اسرائیلی فوجیں'آئی ڈی ایف'  غزہ میں نسل کشی کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر حال ہی میں فلسطین یکجہتی نیٹ ورک آوٹیاروا 'PSNA' کے ارکان نے ان کے خلاف  عدالت سے رجُوع کیا ہے۔



مزید ویڈیوز
کیا سیلٹک ممالک برطانیہ کو تقسیم کر دیں گے؟
غزہ میں ایک زخمی طبی کارکن کی مدد کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے بچے کے آخری لمحات
قابض اسرائیل نے 5 فلسطینی بچوں کو ہتھیاروں کے زور پر یرغمال بنا کر دھمکیاں دیں۔
عمرسیدہ یوکرینی خاتون نے ایک جگہ پر کھڑے ایک روسی ڈراون کو اپنے ہاتھوں سے ناکارہ بنا دیا
نسل کش اسرائیل کے بم اسے زندگی سے محروم نہ کر سکے
کچھ مدت قبل غزہ میں نسل کش اسرائیل کی بمباری کا نشانہ بنانے والی ایک عمارت زمین بوس ہو گئی۔
اسرائیلی افواج نے فلسطینی شہریوں پر بندوقیں تان لیں، کہا: "یہ صرف یہودیوں کا تحفظ کرتی ہیں"
صومالی عوام کا ترکیہ کی حمایت و تعاون پر شکریہ کا اظہار
غزہ کے بچوں کی تباہ کن حالات میں بھی خوش رہنے کی جستجو
فرانسیسی پولیس کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنا کر زمین پر پٹخا گیا شخص جاں بحق