امریکہ کے آج بروز سوموار سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد ابتدائی تجارتی اوقات میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور توانائی کی عالمی منڈیوں میں استحکام کی امیدوں کو ایک اور دھچکا لگا ہے۔
یہ اقدام امریکہ اور اسرائیل کی 28 فروری سے جاری ایران مخالف جنگ کے بعد تنازعے میں بڑے پیمانے کی شدت کی نشاندہی کر رہا ہے۔ عالمی معیار کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 'WTI' کی قیمت میں 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تنازعے کے آغاز سے ہی تیل کی قیمتوں میں بڑے پیمانے کے اتار چڑھاؤ دیکھے گئے ہیں۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے برینٹ خام تیل تقریباً 70 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا تھا لیکن یہ قیمت تیزی سے بڑھ کر 119 ڈالر سے تجاوز کر گئی۔
جمعہ کے روز، پاکستان کے شہر اسلام آباد میں امریکہ ۔ایران امن مذاکرات سے قبل مارکیٹوں میں محتاط پُرامیدی دیکھی گئی جس کے نتیجے میں برینٹ کی قیمتوں میں تقریباً ایک فیصد کمی آئی۔ لیکن ناکہ بندی کے اعلان نے ان مثبت رجحانات کو تیزی سے ختم کر کے قیمتوں کو دوبارہ بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔
امریکہ کے مرکزی کمانڈ دفتر 'CENTCOM' نے ٹرمپ کے بیان سے ہم آہنگ شکل میں کہا ہے کہ 13 اپریل کو صبح 10 بجے سے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے تمام بحری جہازوں کی ناکہ بندی کر دی جائے گی۔ کمانڈ نے واضح کیا ہے کہ یہ ناکہ بندی خلیج فارس اور خلیج عمان کی تمام ایرانی بندرگاہوں سمیت تمام ممالک کے ان جہازوں پر بلا امتیاز لاگو ہوگی جو ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخلہ یا خروج کر رہے ہوں گے۔
مرکزی کمانڈ دفتر نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کی افواج آبنائے ہرمز سے غیر ایرانی بندرگاہوں پر آنے جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت میں مداخلت نہیں کریں گی۔ مزید برآں ناکہ بندی شروع ہونے سے قبل تجارتی جہاز رانوں کو باضابطہ نوٹس کے ذریعے مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔








