ایشیا
3 منٹ پڑھنے
مصنوعی ذہانت کی تقسیم پر قریبی شراکت داری ضروری ہے:جنوبی کوریا
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ترقی پذیر ممالک مصنوعی ذہانت (AI) کے انقلاب میں پیچھے نہ رہ جائیں
مصنوعی ذہانت کی تقسیم پر قریبی شراکت داری ضروری ہے:جنوبی کوریا
جنوبی کوریا / AFP

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ترقی پذیر ممالک مصنوعی ذہانت (AI) کے انقلاب میں پیچھے نہ رہ جائیں۔

 وہ  گزشتہ  روز فرانس کے شہر ایویان میں گروپ آف سیون (G7) کے سربراہی اجلاس میں رہنماؤں کے ساتھ شریک ہوئے۔

یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق، لی نے سربراہی اجلاس کے پہلے توسیعی سیشن میں شرکت کی، جس میں "نئی شراکت داریاں قائم کرنا اور بین الاقوامی یکجہتی کو دوبارہ بنانا" کے موضوع کے تحت بین الاقوامی ترقیاتی امداد کے بہاؤ میں کمی کو دور کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کے مطابق، بات چیت کے دوران   انہوں نے ان چیلنجوں پر روشنی ڈالی جن کا سامنا بہت سے ترقی پذیر ممالک کو جدید ترین AI ٹیکنالوجیز تک رسائی میں کرنا پڑتا ہے اور بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل فرق کو ختم کرنے کے لیے امداد دینے والے اور امداد حاصل کرنے والے ممالک کے درمیان قریبی شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا۔

صدر نے اس بات پر زور دیا کہ AI کی جدت کے فوائد کو عالمی برادری میں وسیع پیمانے پر شیئر کیا جانا چاہیے تاکہ تکنیکی ترقی معاشی عدم مساوات کو گہرا کرنے کے بجائے اجتماعی ترقی میں حصہ ڈالے۔

لی نے X پر لکھا کہ ہمارے عظیم عوام  کی بدولت ممکن ہونے والی جنوبی کوریا کی طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے میں اپنے قومی مفادات کا مضبوطی سے دفاع کروں گا اور عالمی امن اور خوشحالی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے اپنے ذمہ دارانہ کردار کو وفاداری سے نبھاؤں گا۔"

G7 سربراہی اجلاس میں گروپ فوٹو سیشن کے دوران صدر لی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مختصر گفتگو کی۔

سیئول کے مطابق، ٹرمپ نے بین الکوریا تعلقات میں تازہ ترین پیش رفت کے بارے میں پوچھا، جبکہ لی نے ان پر زور دیا کہ وہ شمالی کوریا کے ساتھ مسائل کے پرامن حل کے لیے مدد کریں، بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے مشرق وسطیٰ میں کوششیں کی تھیں۔

 ٹرمپ نے جواب دیا کہ وہ اس طرح کے حل کے لیے کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

لی نے جرمن چانسلر فریڈرک میرز اور کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں کیں جن میں اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر توجہ دی گئی۔

لی بدھ کو   G7 کی مزید نشستوں میں شرکت کرنے والے ہیں جس کے بعد وہ یورپ کا اپنا 10 روزہ دورہ ختم کر کے جنوبی کوریا واپس روانہ ہوں گے۔

واضح رہے کہ  G7 فرانس، جرمنی، امریکہ، کینیڈا، اٹلی، جاپان اور برطانیہ پر مشتمل ہے۔

 

 

دریافت کیجیے
عراقی وزیر اعظم نے دورہ امریکہ کے دوران 48 تجارتی معاہدے کر لیے
مشرقی ترکیہ میں ریکڑ اسکیل پر 5 کی شدت کا زلزلہ
یوکرین کے ڈراون حملے میں سات افراد ہلاک، 24 زخمی
ایران نے 7 راتوں سے جاری حملوں کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملے کیے
وزیر فیدان: "ہم نے یوکرین کا ایک بہت ہی سود مند دورہ کیا ہے"
اسرائیل:فلسطینی قیدیوں کی حامل جیلوں کے گرد مگر مچھ چھوڑنے پر غور
امریکہ۔ ایران کشیدگی اور بحرِ احمر میں آمدورفت کے بند ہونے کے خطرات سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ
یوگنڈا میں اسکول بس حادثے میں کم از کم 21 افراد لقمہ اجل
15 جولائی اقدام بغاوت کے 10 سال اور توانائی کی بدلتی پالیسیاں
فرانس میں شدید طوفان، 13,000 گھر بجلی سے محروم
یوکرین: روسی حملوں میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں
میانمار: روہینگیا مہاجرین کی کشتیاں الٹ گئیں، 500 سے زیادہ افراد ہلاک
امریکی فوج کیوبا کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے اختیارات پر غور کر رہی ہے: رپورٹ
امریکہ نے سعودی عرب کے ہاتھ تقریباً 2 بلین ڈالر کی اسلحہ فروخت کی منظوری دے دی
سیمی فائنل میں ارجنٹائن کی کامیابی،فائنل اسپین کے ساتھ کھیلے گا