دنیا
3 منٹ پڑھنے
ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب ایک دفاعی معاہدے کے قریب
پاکستانی وزیر رضا حیات حراج کا کہنا ہے کہ "تینوں ممالک ایک مسودہ معاہدے پر مشاورت کر رہے ہیں"، جبکہ ترک سربراہ دفتر خارجہ حاقان فیدان نے اس حوالے سے مذاکرات ہونے کی تصدیق کی ہے۔
ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب ایک دفاعی معاہدے کے قریب
حکام کا کہنا ہے کہ مسودہ معاہدہ مہینوں سے زیر بحث رہا ہے، جس میں ترکیہ نے اعتماد اور جامع علاقائی سلامتی تعاون پر زور دیا ہے۔ / TRT World
16 جنوری 2026

پاکستان کے وزیر برائے دفاعی پیداوار نے کہا  ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے تقریباً ایک سال کے مذاکرات کے بعد علاقائی سیکیورٹی تعاون میں ممکنہ گہرائی کی راہ ہموار کرنے والا ایک دفاعی معاہدہ بل تیار کیا ہے ۔

ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے تصدیق کی ہے کہ بات چیت ہوئی ہے ، لیکن اس بات پر  زور دیا  ہےکہ  تاحال  کسی  معاہدے پر  دستخط نہیں ہوئے۔

پاکستانی وزیر رضا حیات ہراج نے جمعرات کو رائٹرز خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ مجوزہ سہ فریقی انتظام پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ سال اعلان کردہ دو فریقی دفاعی معاہدے سے الگ ہے۔

حراج نے کہا کہ معاہدہ طے پانے سے قبل تینوں ممالک کے درمیان حتمی اتفاق ضروری ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان–سعودی عرب–ترکیہ سہ فریقی معاہدہ گزشتہ 10 مہینوں سے موجود ہے اور تینوں ممالک اس پر  غور و خوض کر رہے ہیں۔

حراج نے کہا کہ یہ بات چیت ، موجودہ بحرانی حالات میں دفاعی تعاون مضبوط کرنے میں تینوں علاقائی طاقتوں کے مشترکہ مفاد کی عکاسی کرتی ہے۔

سعودی عرب اور پاکستان نے حال ہی میں اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس میں عہد کیا گیا کسی ایک ملک کے خلاف کوئی بھی جارحیت دونوں کے خلاف جارحیت سمجھی جائے گی۔

جمعرات کو استنبول میں بات کرتے ہوئے ترک اعلیٰ سفارت کار فیدان نے تصدیق کی کہ بات چیت ہوئی، مگر اس بات پر زور دیا کہ ابھی تک کوئی معاہدہ دستخط نہیں ہوا۔

ممکنہ سہ فریقی معاہدے کا تذکرہ  کی جانے والی میڈیارپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر ، فیدان نے کہا کہ اس گفت و شنید کو محدود اتحاد کی تشکیل کے بجائے وسیع علاقائی تعاون کے سیاق و سباق میں دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے خطے کے ممالک کے درمیان اعتماد کی ضرورت پر زور دیا تاکہ تنازعات، دہشت گردی اور بیرونی مداخلت کو ہوا  دینے  والی پیش رفت  سے نمٹا  جا سکے۔

فیدان نے کہا کہ تمام علاقائی  اقوام سیکیورٹی کے معاملے پر تعاونی  پلیٹ فارم تشکیل  دینے  کے لیے  یکجا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ علاقائی مسائل اس وقت حل ہو سکتے ہیں جب ممالک ایک دوسرے کے بارے میں یقین رکھ سکیں۔

فیدن نے کہا کہ ہمارے صدر رجب طیب ایردوان ایک جامع پلیٹ فارم ،جو وسیع تر تعاون اور استحکام پیدا کرے، کے نکتہ نظر کے مالک ہیں ۔

فیدان نے براہِ راست پاکستان یا سعودی عرب کا نام نہیں لیا، لیکن کہا کہ ترکیہ ایسے اقدامات کے لیے کھلا ہے جو طویل المدت علاقائی سیکیورٹی اور اعتماد سازی کو فروغ دیں۔

اسلام آباد اور انقرہ کی طرف سے یہ بیانات تینوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطے کو اجاگر کرتے ہیں، جبکہ حکام  اس بات پر زور دے رہے ہیں  کہ گفت و شنید فی الحال  مشاورتی مرحلے میں ہے۔

 

دریافت کیجیے
پاکستان: خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہرے
میرے خیال میں تہران واقعی معاہدہ نہیں چاہتا تھا: ٹرمپ
ایرانی سڑکوں پر نکل آئے
اسرائیل نے رفح سرحدی چوکی دوبارہ بند کر دی
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے مشرق وسطی کو آتش فشاں میں بدل سکتے ہیں: صدر ایردوان
ایران کی تصدیق: علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے ہیں
پاکستان کے فضائی آپریشن میں ہفتے کی رات تک 352 افغان فوجی اور طالبان ہلاک
ترک وزیر خارجہ کا امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد متعدد عالمی ہم منصبوں سے رابطہ
اسرائیل نے ایرانی رہبران کی بلند پایہ شخصیات، بشمول خامنہ ای اور پزشکیان کو نشانہ بنایا: حکام
ایران کا امریکہ اور اسرائیل پر اقوام متحدہ کے آئین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام
خدشات کی تصویری عکاسی: امریکہ-اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد کے مناظر
ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل پر میزائل داغ دیے
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے وسیع پیمانے کے خطرات کو جنم دے دیا
پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائیاں جاری
امریکہ نے ایران میں "بڑی جنگی کارروائیاں" شروع کر دی ہیں، صدر ٹرمپ