امریکہ کی ریاست واشنگٹن میں متعدد مقامات پر جنگلاتی آگ بدستور تباہی مچا رہی ہے۔
امریکن ریڈ کراس کے کل بروز پیر جاری کردہ بیان کے مطابق واشنگٹن کے متعدد مقامات پر جنگلاتی آگ بدستور پھیل رہی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں سینکڑوں عمارتیں بھی جل کر تباہ ہو چکی ہیں اور 65 ہزار سے زائد افراد اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
ادارے نے کہا ہےکہ ابتدائی جائزوں کے مطابق آگ اب تک 700 سے زائد رہائشی مکانات کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ متاثرہ مکانات کی اکثریت کا تعلق اسپوکین کاؤنٹی سے ہے۔
اسپوکین کاؤنٹی کے شیرف جان نوویلز نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہےکہ حکام نے جنگل کو آگ لگانے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔
حکام کے مطابق مشتبہ شخص کو، علاقے میں متعدد مقمامت پر پھیلی جنگلاتی آگ میں سے ایک، ' اولڈ ٹریلزآگ' کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے ۔
اسپوکین کمپلیکس واقعاتِ آتش زدگی انتظامیہ کے عملے نے بتایا ہے کہ موسم میں بہتری آنے کے باعث فائر فائٹروں کو آگ پر قابو پانے کی کاروائیوں میں پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔
انسی ویب (InciWeb) کے اعداد و شمار کے مطابق اسپوکین اور اسٹیونز کاؤنٹی کے قریب ہفتے کے روز شروع ہونے والی آگ اب تک 3,248 ہیکٹر رقبے کو جلا چکی ہے۔
دوسری جانب، سنلاہیکن میں 26 جولائی کو آسمانی بجلی گرنے سے بھڑکنے والی آگ اب تک 34,398 ہیکٹر رقبے تک پھیل چکی ہے۔
اس آگ پر قابو پانے کے لیے 820 سے زائد اہلکار مصروف عمل ہیں، تاہم اسے تاحال قابو میں نہیں لایا جا سکا۔
ادھر لیون ورتھ کے شمال مغرب میں واقع لٹل جائنٹ میں لگی آگ نے اوکانوگن-ویناچی قومی جنگل میں 20,759 ہیکٹر جنگلاتی رقبے کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا ہے۔
















